منگل , جنوری 27 2026

گل پلازہ شاپنگ مال میں خوفناک آتشزدگی

ایم اے جناح روڈ کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع مشہور شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتہ کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے کے قریب شدید آگ بھڑک اٹھی، جس نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ میز نائن فلور (میزانین) پر مصنوعی پھولوں کی ایک دکان سے شروع ہوئی اور تیزی سے گراؤنڈ فلور، فرسٹ فلور اور دیگر حصوں تک پھیل گئی۔

فائر بریگیڈ کے حکام کے مطابق آگ کو تیسرے درجے کی قرار دے کر شہر بھر سے 20 سے زائد فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکل اور واٹر باوزر طلب کیے گئے۔

پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز بھی امدادی کارروائیوں میں شریک ہوئے۔ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم شدید تپش، دھوئیں اور عمارت کی پرانی ساخت کی وجہ سے فائر فائٹرز اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

آگ کی وجہ سے عمارت کے ایک حصے کا پلر گر گیا، جبکہ گراؤنڈ فلور کی تمام دکانیں مکمل طور پر جل گئیں۔ آتش گیر سامان کی موجودگی نے آگ کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔ عمارت کے پلرز کمزور ہو چکے ہیں اور گرنے کا خدشہ برقرار ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور اندر متعدد افراد پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں، جن کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے۔

تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 80 سے 100 افراد پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں، جبکہ عمارت میں تقریباً 1200 دکانیں موجود ہیں۔جاں بحق افراد میں سے چار کی شناخت فراز، کاشف، عامر اور شہروز کے نام سے ہوئی ہے۔ دم گھٹنے اور جھلسنے سے اموات ہوئیں۔ متعدد زخمی افراد کو سول اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھی ٹوٹنے سے 2 اہلکار گر کر زخمی ہو گئے۔ایک زوردار دھماکا بھی سنا گیا، جو ممکنہ طور پر گیس لیکج کی وجہ سے ہوا، جس کے بعد آگ مزید پھیل گئی۔ پانی کی کمی کے باعث ایک موقع پر آگ بجھانے کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا، جس کے بعد آگ ایک بار پھر بھڑک اٹھی۔

واقعے کے باعث ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک معطل کر دی گئی ہے۔ تبت چوک سے گارڈن چوک اور انکل سریا چوک سے سینٹرل پلازہ تک سڑک بند ہے۔ ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے آگ کی وجوہات کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متبادل ٹریفک روٹس بنانے اور راستے کلیئر رکھنے کی ہدایت کی۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری موقع پر پہنچے اور امدادی کاموں کا جائزہ لیا۔ مینر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور امداد کی یقین دہانی کرائی۔

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔سندھ رینجرز کے دستے بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں اور پھنسے افراد کو نکالنے، قیمتی املاک کی حفاظت اور ریسکیو میں مدد دے رہے ہیں۔

یہ واقعہ کراچی میں حالیہ برسوں میں آگ لگنے کے متعدد سانحات کی ایک اور مثال ہے، جہاں حفاظتی اقدامات کی کمی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے اور تاجر برادری شدید متاثر ہوئی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں کہ آگ کی اصل وجہ کیا تھی، تاہم ابتدائی اطلاعات شارٹ سرکٹ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے