منگل , جنوری 27 2026

میرج کاؤنسلنگ — خاندانی نظام کا نیا محافظ

پاکستانی معاشرے میں شادی صرف دو افراد کا بندھن نہیں، دو خاندانوں، دو روایتوں اور دو سوچوں کا ملاپ بھی ہے۔ مگر ان بڑے خوابوں کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے — گھر اور رشتے اکثر بات چیت کی کمی، سمجھوتے کی صلاحیت، یا دباؤ برداشت نہ کرنے کے باعث خاموشی سے ٹوٹتے رہتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں میں شہروں ہی نہیں قصبوں میں بھی علیحدگی اور ناکام شادیوں کے واقعات میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔
سماجی ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف جھگڑا، غصہ یا انا نہیں بلکہ رہنمائی کی کمی ہے — وہ مدد جو نئے رشتے کی بنیادوں کو مضبوط بنا سکے۔

شادی کے بعد زندگی کی حقیقت

ہمارے والدین کے دور میں شادی اکثر خاندان چلاتا تھا؛ جھگڑے بڑوں تک پہنچتے، فیصلہ بھی وہی کرتے۔
آج جوڑے خود مختار تو ہیں لیکن تنہا بھی — سپورٹ سسٹم سکڑ چکا ہے، اور سوشل میڈیا، کیریئر مقابلہ اور مہنگائی جیسے دباؤ جذباتی فاصلے اور غلط فہمیوں کو بڑھا دیتے ہیں۔

نبیلہ خان، 29 سالہ بینکر، بتاتی ہیں:
“شادی سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ ہم بہترین پارٹنر ہیں۔ لیکن روزمرہ کے دباؤ، مالی مشکلات اور ترجیحات کے فرق نے ہمیں اجنبی بنا دیا تھا۔ کاؤنسلنگ نے ہمیں دوبارہ بات کرنا سکھایا۔”

’میرج کاؤنسلنگ‘— لفظ نیا، مسئلہ پرانا

وقت کے ساتھ دنیا بدل چکی ہے، لیکن رشتوں کو سنبھالنے کے ہنر پر آج بھی کم بات ہوتی ہے۔ پاکستان میں کاؤنسلنگ کو عمومی طور پر “مسئلہ بڑھ جائے تو آخری حل”سمجھا جاتا ہے، جبکہ دنیا بھر میں یہ
“مسئلہ بڑھنے سے پہلے برداشت کرنے کا طریقہ” کہلاتی ہے۔

معالجین کا کہنا ہے کہ ایک بہتر رشتہ پانچ ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے:
✔ بات چیت
✔ بھروسہ
✔ مشترکہ فیصلے
✔ مالی حقیقت پسندی
✔ جذباتی تعاون

اور یہی وہ پانچ ستون ہیں جنہیں ماہر کاؤنسلر مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

بچوں پر اثر: خاموش زخم

جب والدین ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں تو بچے صرف جھگڑے نہیں، گھر کی خاموشیاں بھی محسوس کرتے ہیں۔


تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ کشیدگی والے گھروں کے بچے:

  • کم اعتماد رکھتے ہیں
  • تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے
  • بڑوں کے رشتوں سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں

کاؤنسلنگ نہ صرف جوڑوں کی مدد کرتی ہے بلکہ بچوں کا مستقبل بھی محفوظ بناتی ہے۔

معاشرتی نظرئیے میں تبدیلی

آج کے نوجوان جوڑے اپنے جذبات سمجھنے اور بیان کرنے پر پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔
سوشل ورکروں کے مطابق 2019 کے بعد پاکستان میں پرائیویٹ فیملی تھراپی مراکز کے مریضوں میں ہر سال 15 سے 20 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس تبدیلی کا مطلب واضح ہے:
لوگ رشتوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، ترک نہیں کرنا چاہتے۔

آگے کا راستہ

ماہرین کہتے ہیں کہ میرج کاؤنسلنگ کو نصاب، میڈیا اور نکاح سے پہلے حساس تربیت کا حصہ بنایا جائے۔
زیادہ باشعور جوڑے زیادہ مضبوط خاندان تعمیر کر سکتے ہیں — اور مضبوط خاندان ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔

اختتامیہ

پاکستان میں میرج کاؤنسلنگ کا فروغ صرف ازدواجی بحران کا علاج نہیں؛ یہ خاندان، نسلوں اور معاشرے کی بحالی کا راستہ ہے۔ اگر بات چیت دوبارہ شروع ہو جائے، اگر کوئی تیسرا شخص سمجھنے اور سمجھانے کو تیار ہو، تو شاید ہزاروں ٹوٹتے گھروں کے دروازے دوبارہ کھل سکیں —جہاں مسئلہ نہیں، امید آباد ہو۔

About Aftab Ahmed

Check Also

‘سانول یارپیا’ کے خوشگوار اختتام پر فینز تقسیم

جیو ٹی وی کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا پرائم ٹائم ڈرامہ سیریل سانول …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے