منگل , جنوری 27 2026

ترکیہ پاکستان-سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے قریب، مذاکرات آخری مراحل میں

امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے (SMDA) میں شامل ہونے کے لیے شدید خواہشمند ہے۔

یہ معاہدہ گزشتہ سال ستمبر 2025 میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دستخط ہوا تھا، جس کے تحت کسی ایک فریق پر حملہ دوسرے فریق پر حملہ تصور کیا جائے گا — جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات کافی آگے بڑھ چکے ہیں اور معاہدہ طے پانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ تاہم ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے اب تک اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکیہ کی یہ کوشش پاکستان کے ساتھ مل کر اپنے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی ہے، خاص طور پر امریکا کی پالیسیوں اور نیٹو کے مستقبل پر اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں۔ اگر یہ سہ فریقی اتحاد وجود میں آ جاتا ہے تو مشرق وسطیٰ، جنوب ایشیا اور افریقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب مالی وسائل اور تیل کی طاقت، پاکستان جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور عسکری افرادی قوت، جبکہ ترکیہ فوجی تجربہ، جدید دفاعی صنعت اور نیٹو کی سب سے بڑی فوج (امریکا کے بعد) کے ذریعے اس اتحاد کو ایک مضبوط حفاظتی اور تزویراتی بلاک بنا سکتا ہے۔یہ ممکنہ توسیع سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان نئے دور کے تعلقات کی علامت بھی ہو گی، جو ماضی کی رقابت کے بعد اب معاشی اور دفاعی تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے ہی مضبوط عسکری تعاون موجود ہے، جس میں جنگی جہازوں کی تیاری، ایف-16 کی اپ گریڈیشن اور ڈرون ٹیکنالوجی شامل ہے۔

یاد رہے کہ 17 ستمبر 2025 کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA) پر دستخط کیے تھے۔

تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی سٹاف) اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ترکیہ اس اتحاد کا حصہ بن جاتا ہے تو یہ نئی سیکیورٹی الائمنٹ خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا کی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور جلد ہی باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے