
راولپنڈی میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس پر والد کی پراپرٹی پر قبضے کی کوشش کا سنگین الزام، قابضین گرفتار، ملزم کا سنسنی خیز اعتراف سامنے آ گیا۔
راولپنڈی کے مرکزی کمرشل علاقے صدر میں واقع معروف الشمس ہوٹل پر قبضے کی مبینہ کوشش نے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان نے اپنے چھوٹے بھائیوں سردار یاسر الیاس خان (جو وزیراعظم کے معاون خصوصی بھی ہیں) اور سردار راشد الیاس خان کی بیرون ملک موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے والد کی ملکیتی اس پراپرٹی (ہوٹل) پر کرائے کے قابضین کے ذریعے زبردستی قبضہ کرانے کی کوشش کی۔
اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت چند افراد کو سردار تنویر الیاس کی ایماء پر ہوٹل میں داخل کروایا گیا تاکہ انتظامی کنٹرول سنبھال کر اصل مالکان کو بے دخل کیا جا سکے۔تاہم مالکان کو بروقت اطلاع ملنے پر فوری جوابی کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں ہوٹل میں داخل ہونے والے تمام قابضین کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں قبضہ گروپ کا سرغنہ، جو خود کو سردار تنویر الیاس کا ملازم ظاہر کرتا ہے، نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے یہ اقدام سابق وزیراعظم کی براہ راست ہدایت پر کیا۔اس بیان کے بعد کیس نے نیا موڑ لے لیا اور معاملہ محض جائیداد کے تنازع سے نکل کر سنگین فوجداری الزام کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
مقدمے میں سردار تنویر الیاس کو دفعہ 109 (اعانت جرم) کے تحت بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔واقعے کے فوراً بعد سردار تنویر الیاس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ منظر عام سے غائب ہو گئے اور نامعلوم مقام پر چلے گئے، جس سے مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پولیس نے مقدمے کی تفصیلات ایف آئی آر میں درج کر لی ہیں جبکہ قانونی کارروائی جاری ہے۔ یہ واقعہ سردار تنویر الیاس کے خاندانی جائیداد تنازعات کی ایک نئی کڑی ہے، جو ماضی میں بھی اس طرح کے الزامات کا سامنا کر چکے ہیں۔
UrduLead UrduLead