منگل , جنوری 27 2026

ایران میں معاشی بحران کے خلاف پرتشدد مظاہرے

ایران میں معاشی بحران کے خلاف پرتشدد مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں متعدد شہروں میں سرکاری عمارتیں، بینک، مساجد اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تہران میں مظاہروں کے دوران اموات کی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے، تاہم ایرانی حکام نے اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔

تہران میں بڑے پیمانے پر تباہیتہران کے میئر علی رضا زکانی نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ مظاہرین نے 26 بینکوں کو لوٹا، 2 اسپتالوں اور 2 میڈیکل سینٹرز کو نقصان پہنچایا، 25 مساجد کو آگ لگائی، پولیس تنصیبات اور 48 فائر ٹرکوں کو نشانہ بنایا۔

مظاہرین نے ایمبولینسوں، بسوں اور شہری گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔ایرانی میڈیا نے تصدیق کی کہ فسادات کے دوران بدھ اور جمعرات کو 4 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔مقدس مقامات کی بے حرمتی اور ردعملصوبہ خوزستان میں مظاہرین نے ایک مقدس مقام کی بے حرمتی کی، جس کے خلاف مقامی لوگوں نے شدید احتجاج کیا۔

اس کے علاوہ زنجان سمیت دیگر علاقوں میں حکومت کے حق میں بڑے مظاہرے ہوئے، جہاں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ مظاہرین نے قومی پرچم اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔قم، یزد، لورستان، خوزستان اور دیگر شہروں میں نماز جمعہ کے بعد حکومت مخالف اور حامی دونوں طرح کے مظاہرے دیکھے گئے۔

مظاہروں کی وجہ اور صورتحالیہ مظاہرے 28 دسمبر 2025 سے شروع ہوئے، جو ابتدا میں ایرانی ریال کی شدید قدر میں کمی، 42 فیصد سے زائد افراط زر اور معاشی مشکلات پر تھے، لیکن جلد ہی یہ حکومت مخالف نعروں میں تبدیل ہو گئے، جن میں “موت برائے آمر” اور سپریم لیڈر کے خلاف نعرے شامل ہیں۔

حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا ہے اور سیکیورٹی فورسز نے سخت کارروائی کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک درجنوں مظاہرین ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی حکام مظاہرین کو “فسادی” اور “بیرونی قوتوں کے ایجنٹ” قرار دے رہے ہیں۔

یہ ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی سلسلوں میں سے ایک ہے جو 2022 کے مہسا امینی احتجاج کے بعد دیکھا جا رہا ہے۔ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور مزید پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے