منگل , جنوری 27 2026

ایران میں احتجاج جاری، 45 افراد ہلاک

ایران میں شدید مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج 28 دسمبر 2025 سے جاری ہیں اور اب ملک کے متعدد شہروں اور صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے اب تک کم از کم 45 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

مظاہرے ابتدا میں تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہوئے جہاں دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کر کے احتجاج کیا۔ جلد ہی یہ احتجاج دیگر شہروں جیسے اصفہان، شیراز، مشہد اور مغربی صوبوں تک پھیل گئے۔

مظاہرین نے اہم سڑکوں پر ٹائر جلائے اور نعرے بازی کی، جبکہ بعض مقامات پر پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مسلح شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔احتجاج کو روکنے کے لیے حکومت نے ملک بھر میں اضافی پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

8 جنوری 2026 کو احتجاج کی شدت بڑھنے پر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروسز مکمل طور پر بند کر دی گئیں۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے اس بندش کی تصدیق کی ہے، جو ماضی میں بھی مظاہروں کے دوران استعمال ہوتی رہی ہے۔

یاد رہے کہ ایرانی ریال کی قدر میں شدید کمی اور مہنگائی کی شرح 42 فیصد سے زائد ہونے کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مظاہرین کے خلاف تشدد کیا گیا تو امریکہ سخت جواب دے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے