
یونیورسٹی آف لاہور میں ڈاکٹر آف فارمیسی (ڈی فارم) کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔
طالبہ کو تشویشناک حالت میں پہلے یونیورسٹی سے منسلک اسپتال اور پھر جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ ریڑھ کی ہڈی، پھیپھڑوں اور ٹانگوں پر سنگین زخموں کے باعث آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔یہ افسوسناک واقعہ چند ہفتوں قبل اسی یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک اور حادثے کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں ڈی فارم کے ایک طالب علم محمد اویس نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دی تھی۔
دونوں واقعات فارمیسی ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے ہیں، جس نے طلبہ و طالبات میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔پولیس حکام کے مطابق طالبہ فاطمہ کے اہل خانہ نے تاحال کوئی قانونی شکایت درج نہیں کروائی۔ طالبہ کی سنگین حالت کی وجہ سے ان کا بیان ابھی ریکارڈ نہیں ہو سکا۔
نواب ٹاؤن پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور یونیورسٹی کیمپس کے اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج قبضے میں لے لی ہے۔ طالبہ کا موبائل فون بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔ابتدائی تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق فاطمہ صبح ساڑھے سات بجے یونیورسٹی پہنچیں مگر کلاس میں نہیں گئیں۔ حال ہی میں ایک ٹیسٹ میں انہیں 35 میں سے 18 نمبر ملے تھے، جن سے مطمئن نہ ہونے پر انہوں نے والد اور بھائیوں سے شکایت کی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ ابتدائی طور پر گھریلو نوعیت کا معلوم ہوتا ہے، تاہم اگر یونیورسٹی انتظامیہ کی کوئی غفلت یا لاپرواہی سامنے آئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔واقعے کے بعد یونیورسٹی آف لاہور نے کیمپس میں تمام کلاسز معطل کر دی ہیں اور حفاظتی اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے، جن میں منزلوں پر جالیاں لگانا یا سیکیورٹی عملہ تعینات کرنا شامل ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ سابقہ واقعے کے بعد ماحول پہلے ہی افسردہ تھا، اور یہ نیا حادثہ مزید تشویش کا باعث بن گیا۔پولیس نے حتمی رپورٹ تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور طالبہ کے بیان کی روشنی میں تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ تعلیمی دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔
UrduLead UrduLead