منگل , جنوری 27 2026

پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں پر تفصیلی بحث

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کا اجلاس ڈاکٹر شازیہ صوبیہ سومرو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں اضافے، نئی یونیورسٹی کے بل اور این جی اوز سے متعلق امور پر اہم بحث کی گئی۔

اجلاس میں سابق چیئرمین ڈاکٹر اعظم الدین زاہد لکھوی کے بعد کمیٹی کے تسلسل کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ چیئرپرسن نے کہا کہ تعلیمی شعبے کے اہم معاملات کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے کمیٹی کا کام جاری رکھا جا رہا ہے۔ سابقہ سفارشات پر عمل درآمد کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، جبکہ فیڈرل اردو یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل کو اگلے اجلاس میں دیکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کمیٹی نے رکن قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی کی جانب سے پیش کردہ “دی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی آف ایمرجنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2024” پر غور کیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے حکام نے بتایا کہ تجویز کردہ یونیورسٹی کے نام پر کوئی زمین دستیاب نہیں، اور بل پیش کرنے والوں کو کمیوں سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ چیئرپرسن نے ایچ ای سی سے مزید وضاحت طلب کی۔

پرائیویٹ ایجوکیشن انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی فیس سالانہ صرف 5 فیصد تک بڑھائی جا سکتی ہے، جبکہ ٹرم کے دوران کوئی اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب اور سندھ کے اسکولوں سے متعلق عدالتی احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے پیرا حکام نے کہا کہ اگست میں تمام اسکولوں کی انسپکشن کی جاتی ہے اور اب تک 1500 رجسٹرڈ اسکولوں کی جانچ پڑتال ہو چکی ہے۔

اجلاس میں پرائیویٹ اسکولوں کی جانب سے مخصوص دکانوں سے یونیفارم اور کتابیں خریدنے پر زور دینے کے معاملے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔ پیرا نے وضاحت کی کہ قوانین کے مطابق اسکولوں کو صرف دو وینڈرز تجویز کرنے کی اجازت ہے۔

چیئرپرسن نے کراچی اور اسلام آباد میں کتابوں کی عدم دستیابی کا ذکر کرتے ہوئے پیرا کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں فیس اضافے کی مکمل تفصیلات اور ریکارڈ پیش کیا جائے، بشمول یہ کہ کس اسکول نے کتنی فیس بڑھائی۔ تمام عدالتی احکامات کی دستاویزی کاپیاں بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا۔این جی اوز سے متعلق بحث میں وزارت تعلیم نے کم از کم اجرت کی تعمیل اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) کے ملازمین کی تنخواہوں پر بریفنگ دی۔

چیئرپرسن نے پوچھا کہ این جی اوز اساتذہ کو کتنی تنخواہ دے رہی ہیں، جس پر انکشاف ہوا کہ اکثر اساتذہ کو 8 سے 12 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ ایچ ای سی نے بتایا کہ این سی ایچ ڈی نے اپنا پروپوزل جمع کروا دیا ہے، اور کمیٹی کی سفارشات وزارت کو بھجوائی جا رہی ہیں۔

سیکرٹری ایجوکیشن نے آگاہ کیا کہ این سی ایچ ڈی کے تحت 43 ہزار بچوں کو مفت اسکول بیگز فراہم کیے جائیں گے۔کمیٹی نے تعلیمی شعبے میں شفافیت اور اصلاحات پر زور دیا تاکہ طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے