
جنوری کی شدید سردی میں پنجاب، سندھ اور ملک بھر کے بازاروں میں تازہ سرخ گاجریں کی آمد نے شہریوں کے چہرے روشن کر دیے۔
سبزی منڈیوں میں گاجروں کے ڈھیر لگ گئے، جبکہ گھروں میں روایتی مٹھائی ‘گاجر کا حلوہ’ بننے کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے۔
تاجر اور گھریلو خواتین بتاتی ہیں کہ اس سال گاجریں نہ صرف رسیلی اور میٹھی ہیں بلکہ قیمتیں بھی مناسب ہیں، جس سے یہ لذیذ ڈش ہر گھر کی دسترخوان کی زینت بن رہی ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق گاجر کا حلوہ سردیوں کی بہترین سوغات ہے۔ گاجر میں وٹامن اے، اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر کی فراوانی ہوتی ہے جو آنکھوں کی بینائی بہتر کرتی ہے، جلد کو چمک دیتی ہے اور مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے۔ اعتدال میں کھایا جائے تو یہ جسم کو گرم رکھنے اور توانائی فراہم کرنے میں مددگار ہے۔
پاکستان میں یہ مٹھائی شادیوں، عیدوں اور خاص طور پر موسم سرما میں پسند کی جاتی ہے، جہاں خاندان مل بیٹھ کر اسے گرم گرم کھاتے ہیں۔
بازاروں کا جائزہ لیا جائے تو لاہور کی اکبری منڈی، کراچی کی سبزی منڈی اور اسلام آباد کے پھل سبزی بازاروں میں فی کلو گاجر 80 سے 120 روپے میں دستیاب ہے۔
تاجر عبداللہ کا کہنا ہے کہ “اس بار فصل اچھی ہوئی، گاجریں میٹھی اور لمبی ہیں، لوگ کلووں کے حساب سے خرید رہے ہیں تاکہ حلوہ اور اچار بنائیں۔”گھریلو خواتین میں بھی جوش و خروش ہے۔
راولپنڈی کی رہائشی ثنا بیگم بتاتی ہیں، “سردیوں میں گاجر کا حلوہ بنانا ہماری فیملی ٹریڈیشن ہے۔ بچے اور بڑے سب شوق سے کھاتے ہیں، اوپر سے خشک میوہ جات ڈال کر پیش کرتی ہوں تو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔”
سادہ ترکیب:
ایک کلو کدوکش گاجر کو گھی میں بھونیں، ایک لیٹر دودھ ڈال کر خشک ہونے تک پکائیں، چینی، الائچی اور کھویا ملا کر گاڑھا کریں اور بادام، پستہ سے گارنش کریں۔
یہ موسم سرما کی یہ مزیدار مٹھائی نہ صرف ذائقوں کو محظوظ کر رہی ہے بلکہ صحت کا بھی خیال رکھ رہی ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
UrduLead UrduLead