بدھ , جنوری 28 2026

پاور سیکٹر: شفاف، ڈیجیٹل اور صارف دوست

وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس احمد خاں لغاری نے کہا ہے کہ حکومت پاور سیکٹر کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور صارف دوست بنا رہی ہے۔

انہوں نے LUMS کے زیر اہتمام ایشیا انرجی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 2035 تک اپنی 90 فیصد بجلی کلین اینڈ گرین توانائی سے حاصل کرے گا۔ ان کے بقول، پاکستان کا شمسی انقلاب عالمی مثال بن چکا ہے کیونکہ عوام نے خود 50 گیگاواٹ سولر پینلز نصب کیے ہیں۔

لغاری نے مزید کہا کہ آج ملک تقریباً 52 فیصد بجلی صاف توانائی سے پیدا کر رہا ہے جو کہ ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسکوز کی نجکاری اور سرکلر ڈیٹ میں کمی کرنا حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب ممالک توانائی کے لحاظ سے کم اخراج کرتے ہیں مگر موسمیاتی اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں۔

وزیرِ پاور نے یہ بھی کہا کہ ایشیا توانائی منتقلی کا مرکز بن چکا ہے جہاں دنیا کی 48 فیصد انرجی کھپت ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 17 گیگاواٹ سولر سسٹمز درآمد کر کے پاکستان ایشیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شمسی مارکیٹ بن چکا ہے، اور بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز سولرائز کر کے پانی اور توانائی دونوں بحران حل کیے جا رہے ہیں۔

لغاری نے بتایا کہ صارفین کو میٹر ریڈنگ کی مکمل بااختیار شکل دینے کے لیے “اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔ ان کے بقول، توانائی کا انتقال پاکستان کے لیے نہ صرف ماحولیاتی بلکہ معاشی بقا کا بھی مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں شامل ممالک میں سے ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ عالمی توانائی کی سفارت کاری تیزی سے بدل رہی ہے، اور ایشیائی ممالک خاص طور پر پاکستان کو اس تبدیلی میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سالانہ 300 ارب ڈالر کے موسمیاتی نقصانات کا سامنا کرنے والے ایشیا میں قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری 900 فیصد اضافہ کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ وزیرِ پاور نے وعدہ کیا کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق اصلاحات آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کرائی جائیں گی اور CTBCM پالیسی کی منظوری کے بعد یہ اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں فعال ہو جائے گی۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کی کل بجلی پیدا کرنے کی تنصیب شدہ صلاحیت 2025 تک تقریباً 64,035 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2024 کے 43,069 میگاواٹ تھی۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل میں 61 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع خصوصاً ہائیڈرو، سولر اور ہوا سے پیدا کی جائے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مہنگائی اور شرح نمو پررپورٹ جاری

ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے لیے اپنی تازہ معاشی پیشگوئیاں جاری …