اتوار , نومبر 30 2025

ضمنی انتخابات آج ملک کے مختلف حلقوں میں ہوں گے

قومی اسمبلی کے چھ اور صوبائی اسمبلی کے سات حلقوں میں ضمنی انتخابات آج ہوں گے اور الیکشن کمیشن نے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بلاوقفہ جاری رہے گی۔

لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی، مظفرگڑھ اور ہری پور کے حلقوں میں اسٹیشنز کو سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں کھولا جائے گا تاکہ ووٹرز بلاخوف حقِ رائے دہی استعمال کرسکیں۔

این اے 18 ہری پور میں نو امیدوار مدمقابل ہیں اور یہاں مقابلہ سخت سمجھا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ میں اصل مقابلہ ہوگا۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی نااہلی اور نو مئی کیس میں سزا کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے باعث یہاں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

فیصل آباد کے حلقہ این اے 96 میں سولہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ن لیگ کے طلال بدر چوہدری کا مقابلہ پندرہ آزاد امیدواروں سے ہوگا۔ نشست پی ٹی آئی کے رائے حیدر علی کھرل کی نااہلی پر خالی ہوئی تھی، جس کے بعد حلقے میں مختلف دھڑوں نے انتخابی سرگرمیوں میں شدت پیدا کی ہے۔

فیصل آباد ہی کے حلقہ این اے 104 میں ن لیگ کے راجہ دانیال اور چار آزاد امیدواروں میں مقابلہ ہوگا۔ یہ نشست سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین حامد رضا کی سزا کے باعث خالی ہوئی تھی۔ یہاں انتخابی روایت ہمیشہ سخت مقابلے کی رہی ہے اور اس بار بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں سمجھی جا رہی۔

صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بھی آج عوام اپنے نمائندے منتخب کریں گے۔ فیصل آباد پی پی 116 میں ن لیگ کے رانا شہریار احمد اور پانچ آزاد امیدوار میدان میں ہیں۔ حلقہ پی ٹی آئی کے محمد اسماعیل سیلا کی نااہلی کے بعد خالی ہوا تھا۔ پی پی 98 چک جھمرہ میں دس امیدوار مدِ مقابل ہیں اور یہاں بھی کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ ن لیگ کے آزاد علی تبسم کا مقابلہ آزاد امیدوار محمد اجمل چیمہ سے سمجھا جا رہا ہے۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے جنید افضل ساہی کی نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔

پی پی 115 فیصل آباد میں پانچ امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ ن لیگ کے طاہر جمیل کا چار آزاد امیدواروں سے مقابلہ ہوگا۔ یہ حلقہ شیخ شاہد جاوید کی نااہلی کے بعد ضمنی انتخاب کے لیے مقرر ہوا تھا۔ شہر میں انتخابی سرگرمیوں کے دوران مختلف گروپ ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوشش کرتے نظر آئے۔

مظفرگڑھ کے حلقہ پی پی 269 میں سترہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ یہاں پیپلز پارٹی کے علمدار عباس قریشی، آزاد امیدوار اقبال خان اور عبدالحئی دستی میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ یہ نشست ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے قبل پیپلز پارٹی کے امیدوار کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس سے حلقے کی سیاسی فضا مزید گرم ہوگئی تھی۔

سرگودھا کے حلقے پی پی 73 کوٹ مومن میں پانچ امیدوار میدان میں ہیں۔ ن لیگ کے میاں سلطان علی رانجھا کا مقابلہ چار آزاد امیدواروں سے ہوگا۔ یہ نشست پی ٹی آئی کے انصر اقبال ہرل کی دس سال قید اور نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی، اور علاقے میں ان کے حامیوں کی سیاسی سرگرمیاں ان کے بعد کافی متاثر ہوئی ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے حلقہ این اے 185 میں آٹھ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ ن لیگ کے محمود قادر لغاری کا پیپلز پارٹی کے سردار دوست محمد کھوسہ سے سخت مقابلہ متوقع ہے۔ نشست پی ٹی آئی کی زرتاج گل وزیر کی سزا اور نااہلی کے باعث خالی ہوئی تھی، جس کے بعد حلقے میں انتخابی جوش نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ سکیورٹی کے جامع انتظامات مکمل ہیں۔ فوج اور سول فورسز کے افسران کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں تاکہ پولنگ کا عمل پرامن رہے اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔ ضمنی انتخابات کے یہ نتائج آئندہ پارلیمانی صف بندی پر نمایاں اثر ڈالیں گے کیونکہ اہم جماعتیں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

فیڈرل بورڈ نے SSC Part-I اور Part-II 2025 کے نتائج کا اعلان کیا

وفاقی بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ایف بی آئی ایس ای) نے 28 نومبر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے