پروبائیوٹکس آنتوں کی صحت بہتر بنا کر مدافعت، دل اور دماغ پر مثبت اثر ڈالتے ہیں، ماہرین

حالیہ طبی تحقیقات کے مطابق دہی میں موجود پروبائیوٹکس یعنی مفید جراثیم انسانی صحت پر ایسے مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں جو طویل اور صحت مند زندگی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دہی براہِ راست عمر بڑھانے کا کوئی جادوئی ذریعہ نہیں، لیکن یہ جسم کے مختلف نظاموں کو متوازن رکھ کر عمر رسیدگی کے عمل کو سست کر سکتا ہے۔
پروبائیوٹکس وہ زندہ جراثیم ہوتے ہیں جو انسانی جسم، خصوصاً آنتوں میں قدرتی طور پر موجود ہوتے ہیں اور دہی جیسے خمیر شدہ غذائی اجزا میں وافر پائے جاتے ہیں۔ دہی کا باقاعدہ استعمال آنتوں کے مائیکرو بایوم کو متوازن کرتا ہے، جو نہ صرف ہاضمے کے مسائل کو کم کرتا ہے بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ یہ توازن انفیکشنز سے بچاؤ کے ساتھ جسم کو اندرونی سوزش سے محفوظ رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے، جو بڑھاپے کی رفتار تیز کرنے والے عوامل میں شامل ہے۔
دل کی صحت کے حوالے سے بھی دہی کے فوائد کو طبی دنیا میں تسلیم کیا جا چکا ہے۔ متعدد مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ دہی کا روزانہ استعمال بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتا ہے اور نقصان دہ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، جس سے دل کے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ ان عوامل کا تعلق نہ صرف بہتر زندگی سے ہے بلکہ لمبی عمر کے امکانات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
دل و دماغ کے درمیان تعلق کو مدنظر رکھتے ہوئے ذہنی صحت پر دہی کے اثرات بھی قابلِ غور ہیں۔ دہی میں موجود پروبائیوٹکس دماغی تناؤ اور ڈپریشن کے خلاف قوت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ عمل “gut-brain axis” کے ذریعے ہوتا ہے، جس کے تحت آنتوں کی کیفیت براہ راست دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ایسے میں دہی آنتوں کے جراثیم کی ساخت بہتر بنا کر دماغی صحت پر بھی خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو دہی کے اینٹی ایجنگ یعنی عمر رسیدگی کے عمل کو سست کرنے والے اثرات ہیں۔ سائنسی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت مند آنتیں جسمانی سوزش کو کم رکھتی ہیں اور مدافعتی نظام کو متحرک رکھتی ہیں، جو بڑھاپے کی علامات میں تاخیر پیدا کرتے ہیں۔ کم سوزش کے ساتھ مضبوط مدافعتی نظام نہ صرف مختلف بیماریوں کے خلاف دفاع کرتا ہے بلکہ خلیات کی مرمت اور بحالی میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب صرف غذا پر توجہ دینا نہیں بلکہ ورزش، نیند اور ذہنی سکون بھی ضروری ہے۔ تاہم، دہی جیسی قدرتی غذا کا باقاعدہ استعمال اس مجموعی طرزِ زندگی کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں پروبائیوٹک غذا کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جہاں مغربی دنیا میں دہی کے علاوہ کیفر، کمبوچا اور خمیر شدہ سبزیاں پروبائیوٹک ذرائع کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں، وہیں برصغیر میں دہی روایتی اور سستی غذا ہونے کے باعث ایک اہم متبادل کے طور پر موجود ہے۔
طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ دہی کا استعمال روزمرہ خوراک میں شامل کیا جائے، خصوصاً ایسے افراد جو معدے، مدافعت یا ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا شکار ہوں۔ البتہ، ذیابیطس یا کسی مخصوص الرجی کے مریض اپنے معالج کے مشورے سے دہی کی مقدار طے کریں۔
دہی اگرچہ ایک سادہ غذا ہے، مگر اس میں موجود پروبائیوٹکس کے اثرات جدید سائنسی تحقیق کے مطابق غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ صحت مند آنتوں، دل کی بہتر کارکردگی، کم سوزش اور مضبوط دماغی حالت جیسے عوامل کسی بھی انسان کی عمر کو نہ صرف بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسے بہتر اور فعال بھی بنا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہی ایک چھوٹا لیکن طاقتور ذریعہ ہے، جو قدرتی طور پر عمر میں اضافہ لا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
#YogurtForLongevity #Probiotics
UrduLead UrduLead