
وفاقی دارالحکومت کے سرکاری اسپتال پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے۔ پمز اسپتال حکام کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے جن میں سے ایک کو بروقت ریسکیو کر کے محفوظ رکھا جا سکا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ریسکیو ذرائع کے مطابق نرسری میں نصب ایئرکنڈیشن کا کمپریسر پھٹنے سے آگ بھڑکی۔ یہ آتشزدگی صبح 6 بج کر 45 منٹ پر شروع ہوئی، جس کے بعد ریسکیو اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور آگ پر قابو پانے کی کارروائی شروع کی۔ آگ بجھانے کے بعد نرسری میں کولنگ کا عمل بھی مکمل کیا گیا تاکہ دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کو ختم کیا جا سکے۔
پس منظر: نوزائیدہ نگہداشت وارڈز میں آتشزدگی کا بڑھتا رجحان
اسپتالوں کے نوزائیدہ نگہداشت یونٹس (نرسری/NICU) میں آتشزدگی کے واقعات خطے میں کوئی نئی بات نہیں۔ حالیہ برسوں میں بھارت میں بھی نوزائیدہ وارڈز میں آگ لگنے سے متعدد بار قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں سے کئی واقعات وینٹی لیٹر یا آکسیجن سلنڈر میں دھماکے یا برقی آلات میں خرابی سے جڑے پائے گئے۔ ماہرین طویل عرصے سے نشاندہی کرتے آئے ہیں کہ پاکستان سمیت خطے کے سرکاری اسپتالوں میں انتہائی حساس یونٹس، خصوصاً نرسری اور آئی سی یو، میں نصب برقی آلات اور کولنگ سسٹمز کی باقاعدہ حفاظتی جانچ اور بروقت مرمت کا فقدان اکثر ایسے حادثات کا سبب بنتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
واقعے کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین سرکاری اسپتالوں کے حفاظتی انتظامات اور نرسری جیسے حساس وارڈز میں برقی آلات کی نگرانی پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جبکہ کئی صارفین ذمہ داروں کے تعین اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
طبی و حفاظتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نرسری اور نوزائیدہ نگہداشت یونٹس میں نصب ایئرکنڈیشننگ اور دیگر برقی آلات کی باقاعدگی سے تکنیکی جانچ ناگزیر ہے، کیونکہ کمپریسر یا وائرنگ میں معمولی خرابی بھی بڑے حادثے کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایسے حساس وارڈز میں فائر الارم، خودکار اسپرنکلر سسٹم اور ہنگامی انخلا کے واضح طریقہ کار کی موجودگی جانی نقصان کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead