
وزیراعظم کا نوٹس، اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم
وفاقی دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں دل کے امراض کی تشخیص کے لیے استعمال ہونے والی اہم سہولت — سی ٹی کورونری اینجیوگرافی — کے فعال نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر وزیراعظم شہباز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے حقائق اور ذمہ داری کے تعین کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
معاملہ اٹھا کیسے؟
یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب پی ٹی آئی بانی عمران خان کی صحت سے متعلق ایک رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی۔ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی اس رپورٹ کے مطابق، یکم اگست 2026 کو عمران خان نے بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ، سر درد، بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور ذہنی تناؤ کی شکایت کی۔ پمز اسلام آباد کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر اختر علی بندیشہ نے ان کا معائنہ کیا، جس میں ان کا بلڈ پریشر 140/100 ریکارڈ کیا گیا — جبکہ فروری 2026 میں اسی ڈاکٹر کے معائنے میں یہ 120/80 یعنی نارمل تھا۔ ڈاکٹر نے دل کے مزید تفصیلی معائنے کے لیے سی ٹی کورونری اینجیوگرافی تجویز کی، مگر یہ سہولت پمز میں دستیاب یا فعال نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اسی پس منظر میں 21 اگست 2026 کو یہ خبر بھی زیرِ بحث آئی کہ عمران خان کا طبی معائنہ الشفا کے بجائے پمز میں کیا گیا۔ وزیراعظم کے مشیر عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وضاحت دی کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے شفا اسپتال کے راستے میں پیدا ہونے والی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا، جہاں معائنے میں انہیں صحت مند پایا گیا۔ تاہم پی ٹی آئی حلقوں اور بعض صحافیوں کا دعویٰ تھا کہ اڈیالہ جیل سے بیک وقت گاڑیوں کے دو قافلے روانہ کیے گئے تھے — ایک الشفا اور دوسرا پمز کی جانب۔ عمران خان کے لندن مقیم ساتھی ذلفی بخاری نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ انہیں الشفا اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا نوٹس اور انکوائری کمیٹی
اسلام آباد میں پمز اسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے یا عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حقائق اور ذمہ داری کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کر دی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے اور رپورٹ پیش کرے تاکہ مزید کارروائی قانون اور قواعد کے مطابق عمل میں لائی جا سکے۔
انکوائری کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے، جبکہ سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن اور آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) کے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی سمیت دیگر ماہرین — ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز کے (ریٹائرڈ) بریگیڈیئر ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی کے سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق — کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔ ضرورت پڑنے پر کمیٹی میں مزید ارکان بھی شامل کیے جا سکیں گے۔
کمیٹی کن پہلوؤں کی چھان بین کرے گی؟
کمیٹی کو دیے گئے دائرہ کار کے مطابق وہ درج ذیل امور کا جائزہ لے گی:
- کیا پمز میں 2022 سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی، اور اگر تھی تو مطلوبہ آلات، افرادی قوت اور سافٹ ویئر کس حد تک دستیاب تھے۔
- 2022 سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرامز کی تعداد، تاریخیں اور نوعیت — اس ضمن میں اسپتال کا مکمل ریکارڈ کھنگالا جائے گا۔
- کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان اس سہولت کے لیے کوئی باقاعدہ ریفرل میکنزم موجود تھا یا نہیں، اور اسپتال انتظامیہ کا اس میں کیا کردار رہا۔
- کیا کارڈیالوجی کے مریضوں کو معمول کے مطابق نجی طبی مراکز ریفر کیا جاتا رہا، اور کیا کسی مخصوص نجی ادارے کو ترجیح دی گئی۔
- مریضوں کو نجی مراکز بھیجنے سے سرکاری اسپتال سے کس قدر مالیاتی کاروبار نجی اداروں کی طرف منتقل ہوا۔
- شعبہ جات کے درمیان عدم رابطہ کاری، بدانتظامی یا غلط فہمی کے پہلو، اور اس کے نتیجے میں عوامی مفاد کو پہنچنے والا نقصان و ذمہ دار افسران کا تعین۔
نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن انکوائری کے دوران کمیٹی کی معاونت کرے گا، اور رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی قانون کے مطابق کی جائے گی۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر یہ خبر تیزی سے زیرِ بحث آئی، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ معاملہ عمران خان کی جیل میں طبی سہولیات تک رسائی کے وسیع تر تنازع سے جڑا ہوا ہے۔ سیاسی مباحثوں کے فورمز اور سوشل پلیٹ فارمز پر صارفین کی رائے واضح طور پر تقسیم نظر آئی: ایک طبقہ اسے سرکاری اسپتال کی برسوں پرانی بدانتظامی اور وسائل کی کمی کا ثبوت قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اسے عمران خان کے علاج میں مبینہ رکاوٹ اور حکومتی بے حسی سے جوڑ کر تنقید کر رہا ہے۔ حکومتی موقف کی حمایت کرنے والے صارفین نے وزیراعظم کے فوری نوٹس اور انکوائری کمیٹی کے قیام کو شفافیت کی جانب اقدام قرار دیا۔ اس کے برعکس پی ٹی آئی کے حامی حلقوں نے اڈیالہ جیل سے روانہ ہونے والے مبینہ “دو قافلوں” اور اسپتال کی تبدیلی سے متعلق حکومتی وضاحتوں پر سوالات اٹھائے۔
قابلِ ذکر ہے کہ پمز اسپتال کے وسائل کی کمی کوئی نیا معاملہ نہیں — اس سے قبل بھی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ اسلام آباد کے چار بڑے سرکاری اسپتال، جن میں پمز بھی شامل ہے، ایم آر آئی جیسی بنیادی امیجنگ سہولت سے بھی محروم رہے ہیں، جس کی وجہ مشینوں کی خرابی اور نئی خریداری میں تاخیر بتائی گئی تھی۔
پس منظر: عمران خان کا حالیہ طبی ریکارڈ
خیال رہے کہ عمران خان کو رواں سال متعدد بار طبی معائنے اور علاج کے سلسلے میں پمز اسپتال لایا جا چکا ہے، جن میں آنکھ کی بیماری (سینٹرل ریٹنا وین اوکلوژن) کے لیے دیے جانے والے سلسلہ وار انٹرا وٹریل انجکشنز بھی شامل ہیں۔ حالیہ رپورٹ میں بلڈ پریشر کی بے قاعدگی اور ذہنی تناؤ کی شکایات کے بعد دل کے تفصیلی معائنے کی سفارش کی گئی تھی، جس کے تناظر میں پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت کی عدم دستیابی نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔
آگے کیا ہوگا؟
انکوائری کمیٹی حقائق اور ذمہ داری کا تعین مکمل کر کے اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، جس کے بعد قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق ذمہ دار افراد یا دفاتر کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ اس دوران یہ سوال بدستور برقرار ہے کہ آیا ملک کے سب سے بڑے سرکاری صحت کے ادارے میں بنیادی تشخیصی سہولت کی عدم دستیابی محض انتظامی کوتاہی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجوہات کارفرما تھیں — جس کا فیصلہ اب انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ہوگا۔
UrduLead UrduLead