اتوار , اگست 23 2026

5G سرمایہ کاری — کارکردگی وعدوں سے کم

پاکستان کی تین بڑی سیلولر موبائل کمپنیوں (سی ایم اوز) نے رواں سال کے سپیکٹرم نیلامی کے بعد سے اب تک 1,100 سے زائد سائٹس کو 5G کے لیے اپ گریڈ کرنے پر مجموعی طور پر تقریباً 17 کروڑ 86 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

یہ اعداد و شمار وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔ جاز نے تقریباً 5 کروڑ 97 لاکھ ڈالر، زونگ نے 9 کروڑ 89 لاکھ ڈالر، جبکہ یوفون نے اندازاً 2 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔

تینوں کمپنیوں نے آئندہ مالی سال میں مزید سرمایہ کاری کی پیش گوئی بھی کی ہے — جاز مزید 3 کروڑ ڈالر جبکہ زونگ تقریباً 4 کروڑ ڈالر مزید خرچ کرنے کا امکان رکھتا ہے۔

یہ سرمایہ کاری پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی 10 مارچ کو ہونے والی اُس تاریخی نیلامی کے بعد سامنے آئی ہے جس میں 700، 2300، 2600 اور 3500 میگاہرٹز بینڈز میں 480 میگاہرٹز سپیکٹرم فروخت کیا گیا اور قومی خزانے کو 50 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سے زائد کی آمدنی ہوئی۔

جاز سب سے بڑا بولی دہندہ رہا جس نے 190 میگاہرٹز حاصل کیا، اس کے بعد یوفون نے 180 میگاہرٹز اور زونگ نے 110 میگاہرٹز حاصل کیا۔ اس وقت حکام نے اس نیلامی کو ایک ایسا سنگِ میل قرار دیا تھا جو برسوں سے جاری “سپیکٹرم کی قلت” کا خاتمہ کرے گا، جس کی وجہ سے لاکھوں صارفین کی موبائل سروس متاثر ہو رہی تھی۔ اس وقت چند ماہ میں 4G بہتری اور اس کے بعد اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں 5G سروس کا وعدہ کیا گیا تھا۔

اب تک کی صورتحال

تقریباً چھ ماہ گزرنے کے بعد ملک بھر میں 1,136 سائٹس اپ گریڈ ہو چکی ہیں، اور کمپنیوں کو 5G نیٹ ورکس کے لیے درکار ہائی کیپیسٹی بیک ہال لنکس کی سہولت کے لیے ای-بینڈ سپیکٹرم بھی دیا گیا ہے۔ لیکن رفتار اور معیار دونوں تنازع کا باعث بن گئے ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے اور تجارتی لحاظ سے اہم ترین شہر کراچی میں اگست تک 2,632 کے ہدف کے مقابلے میں صرف چند سو ٹاورز فعال ہو سکے، جو کہ فیز-1 کے اہداف سے کافی کم ہے، جبکہ دنیا کے دیگر حصوں میں 6G کے تجربات آگے بڑھ رہے ہیں۔

صنعتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق شہری علاقوں کے اچھی کوریج والے حصوں میں حقیقی 5G اسپیڈ 100 سے 400 میگابٹس فی سیکنڈ کے درمیان ریکارڈ کی گئی ہے، جو 4G سے واضح بہتری ضرور ہے مگر کنٹرول شدہ مظاہروں میں دکھائی گئی ملٹی گیگابٹ اسپیڈ سے کہیں کم ہے۔ ماہرینِ ٹیلی کام کے مطابق اصل رکاوٹ پاکستان کا کمزور فائبر نیٹ ورک ہے: صرف 15 سے 18 فیصد موبائل ٹاورز فائبر سے منسلک ہیں، جس کی وجہ سے زیادہ تر سائٹس مائیکرو ویو لنکس پر انحصار کرتی ہیں جو 5G کی کیپیسٹی اور لیٹنسی کی ضروریات پوری نہیں کر پاتیں۔ مختلف میونسپل اور کنٹونمنٹ اداروں کے درمیان اوورلیپنگ منظوریوں میں تاخیر، بلند سرمایہ لاگت اور بجلی کی مسلسل بندش نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

صارفین کا ردِعمل

سوشل میڈیا اور پارلیمنٹ دونوں میں عوامی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ قومی اسمبلی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ارکان نے حکام سے سوال کیا کہ سپیکٹرم نیلامی اور 5G لانچ کے باوجود صارفین کو اب بھی سست انٹرنیٹ، کالز کے منقطع ہونے اور ناقص سروس کا سامنا کیوں ہے، اور نشاندہی کی کہ یہ مسائل صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ بڑے شہروں میں بھی موجود ہیں۔

تنقید کی ایک اور لہر ڈیوائس کی مطابقت سے متعلق ہے: آئی فون، سام سنگ کے کئی ماڈلز اور گوگل پکسل پر اُس وقت تک 5G فعال نہیں ہوتا جب تک موبائل کمپنیاں ضروری نیٹ ورک کنفیگریشن اپ ڈیٹس فراہم نہ کریں — یہ تکنیکی خلا ان صارفین کے لیے مایوس کن رہا جنہوں نے خاص طور پر 5G کے لیے اپنے فون اپ گریڈ کیے تھے۔ کراچی کے ایک صارف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اپنے نیٹ ورک کے فلیگ شپ ایکسپیرینس سینٹر کے بالکل اوپر رہنے کے باوجود اسے مستحکم سگنل نہیں مل رہا، اور اس نے نیٹ ورک تبدیل کرنے پر غور کا عندیہ دیا۔ دیگر شہروں کے صارفین نے بھی ایسی ہی شکایات کی ہیں۔

نیلامی سے پہلے ہی ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ ڈیوائس کی قیمتوں کے مسئلے کو حل کیے بغیر جلد بازی میں نئی نسل کے نیٹ ورکس متعارف نہ کروائے جائیں، اور کہا تھا کہ 5G ڈیجیٹل تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے کیونکہ اس کا فائدہ صرف شہری اور زیادہ آمدنی والے طبقے کو ہوگا، جبکہ پہلی 4G نیلامی کے ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تقریباً ایک چوتھائی موبائل صارفین اب بھی موبائل براڈ بینڈ استعمال نہیں کرتے۔

کمپنیوں کا مؤقف

کمپنیوں کے عہدیداروں نے سرمایہ کاری کی رفتار کا دفاع کیا ہے۔ جاز ورلڈ کے سی ای او عامر ابراہیم نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کمپنی کو اپنا نیٹ ورک مضبوط بنانے اور لاکھوں پاکستانیوں تک قابلِ اعتماد کنیکٹیویٹی پہنچانے میں مدد دے گی۔ زونگ کی ڈپٹی ڈائریکٹر کارپوریٹ برانڈ کمیونیکیشنز اینڈ سسٹین ایبلٹی، صائرہ مرزا نے کمیونٹی اسپیڈ ٹیسٹس کا حوالہ دیا جن میں اچھی کوریج والے علاقوں میں اوسط 5G ڈاؤن لوڈ اسپیڈ تقریباً 220 میگابٹس فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی، جسے انہوں نے اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ ٹیکنالوجی حقیقی فوائد دے رہی ہے، اگرچہ کوریج کی توسیع ابھی جاری ہے۔

حکام کا مؤقف ہے کہ پاکستان کا 5G منصوبہ کئی مراحل پر مشتمل ہے اور اسے مکمل ہونے میں تقریباً ایک دہائی لگے گی، جبکہ لائسنس کی شرائط کے تحت کمپنیوں کو 2030 کی دہائی کے آغاز تک فائبر ٹو دی سائٹ کے کم از کم تناسب اور کوریج میں مسلسل توسیع کرنی ہوگی۔ فی الحال، نیلامی کے شور اور صارفین کے روزمرہ تجربے — رکتی ہوئی ویڈیو کالز، اندرونی سگنل کی کمزوری، اور وہ فون جو ابھی نئے نیٹ ورک سے منسلک ہی نہیں ہو پاتے — کے درمیان فرق ہی وہ کہانی ہے جو صارفین سرکاری منصوبے کی تکمیل سے کہیں پہلے، اپنے طور پر بیان کر رہے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

CDA کا بجٹ تاخیر کا شکار، اربوں کے منصوبے جاری

کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ تاحال منظور نہیں ہوسکا، جبکہ اربوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے