
امریکہ میں دو ہیومینائیڈ روبوٹس نے پہلی بار زندہ جانور کا کامیاب آپریشن کر کے تاریخ رقم کر دی
طبی سائنس کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے امریکی ریاست کیلیفورنیا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو (UCSD) کے ماہرین نے دو انسان نما (ہیومینائیڈ) روبوٹس کی مدد سے زندہ جانوروں پر پہلی بار کامیاب سرجری مکمل کر لی۔
یہ تحقیق معتبر سائنسی جریدے “نیچر” میں 8 جولائی کو شائع ہوئی۔ واضح رہے کہ روبوٹس نے دراصل سؤر (خنزیر) کے جسم سے متاثرہ “پِتے کی تھیلی” (gallbladder) نکالی، جبکہ ابتدائی رپورٹس میں اسے تِلّی (spleen) کا آپریشن بتایا جا رہا تھا۔
دو مختلف آپریشن، دو مختلف ٹیمیں
محققین کے مطابق کل دو سرجریاں مکمل کی گئیں۔ پہلی سرجری میں ایک ہیومینائیڈ روبوٹ نے انسانی سرجن کی معاونت کے ساتھ مل کر پِتے کی تھیلی کامیابی سے نکالی، جبکہ دوسری سرجری مکمل طور پر دو روبوٹس نے آپس میں مل کر انجام دی — اس عمل میں کسی انسان کی براہِ راست شمولیت شامل نہیں تھی۔ دونوں آپریشن دور دراز سے کنٹرول (ٹیلی آپریٹڈ) روبوٹس کے ذریعے کیے گئے، یعنی روبوٹس کو انسانی سرجن دور بیٹھ کر ہدایات دے رہے تھے۔
روبوٹس کو “سرجی” (Surgie) کا پیارا نام دیا گیا ہے، جو چینی کمپنی یونیٹری (Unitree) کے تیار کردہ “جی 1” ماڈل پر مبنی ہیں۔ یہ روبوٹ محض پانچ فٹ قد اور 60 پاؤنڈ وزنی ہیں، جبکہ ہسپتالوں میں استعمال ہونے والے روایتی سرجیکل روبوٹس کا وزن تقریباً 1,800 پاؤنڈ ہوتا ہے — یعنی نیا روبوٹ روایتی مشین سے تقریباً 30 گنا ہلکا اور لاگت میں بھی کہیں کم ہے۔
سائنسدانوں کا مؤقف
اس تحقیق کے سینئر مصنف اور UCSD کے شعبہ الیکٹریکل اینڈ کمپیوٹر انجینئرنگ کے پروفیسر مائیکل یپ نے بتایا کہ امریکہ سمیت دنیا بھر میں سرجنز کی کمی اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث علاج میں تاخیر اور رسائی میں کمی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دور دراز سے کنٹرول کیے جانے والے اور خودکار ہیومینائیڈ روبوٹس اہم سرجریوں تک رسائی بڑھانے کی حقیقی صلاحیت رکھتے ہیں، جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر صحت کے بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ پروفیسر یپ کے مطابق ان کا ایک بڑا مقصد ایسا خودکار سرجیکل معاون تیار کرنا ہے جو مستقبل کے آپریشن تھیٹر میں انسانوں کے شانہ بشانہ کام کر سکے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں طبی عملے کی شدید قلت ہے۔
UCSD سکول آف میڈیسن سے وابستہ معاون پروفیسر ڈاکٹر شانگلائی لیو نے بتایا کہ ہیومینائیڈ روبوٹ کے ذریعے کی گئی سرجری اتنی ہی درست تھی جتنی روایتی ٹیلی آپریٹڈ سرجیکل روبوٹ سسٹم کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس روبوٹ کو مستقبل میں بحری جہازوں، دور دراز دیہاتوں یا چھوٹے آپریشن تھیٹرز میں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے، جہاں روایتی بھاری بھرکم سرجیکل روبوٹس کے لیے جگہ اور وسائل دستیاب نہیں ہوتے۔
سنٹر فار دی فیوچر آف سرجری کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر رائن براڈرک نے امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کو بتایا کہ بطور تصورِ ثبوت (proof of concept) یہ تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔ ان کے مطابق روایتی لیپروسکوپک سرجری کے برعکس اس روبوٹ کے لیے علیحدہ جگہ کی ضرورت نہیں پڑی، بلکہ یہ ایک انسانی معاون کی طرح موجودہ آپریشن تھیٹر کی جگہ میں ہی باآسانی فٹ ہو گیا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
محققین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ابھی جانوروں پر کیا گیا ہے اور انسانوں پر آزمائش سے پہلے ایک اہم قدم ہے۔ روایتی سرجیکل روبوٹس، جیسے مشہور “دا ونچی” سسٹم، صرف ایک مخصوص کام کے لیے بنائے جاتے ہیں اور انہیں چلانے کے لیے ماہر عملہ موقع پر موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے برعکس ہیومینائیڈ روبوٹس اپنی ہیئت اور لچک کی وجہ سے مختلف نوعیت کے طبی و عمومی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور انہیں دور دراز یا مشکل ماحول میں بھی آسانی سے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
ٹیم کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں روبوٹ کی ری کیلیبریشن کی ضرورت کم کرنے اور کنٹرول الگورتھمز کو مزید بہتر بنانے پر کام کیا جائے گا، جبکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے روبوٹ کو جزوی خودمختاری دینے کا منصوبہ بھی زیرِ غور ہے — یعنی مستقبل میں روبوٹ سرجن کی اگلی حرکت کا خود اندازہ لگا کر اپنی پوزیشن خود بنا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق انجینئرز اور سرجنز کے مابین قریبی تعاون کے بغیر ممکن نہ ہوتی، اور اس میں UCSD کے “سنٹر فار دی فیوچر آف سرجری” نے کلیدی کردار ادا کیا۔
UrduLead UrduLead