جمعرات , اگست 27 2026

بنگلادیش کی تاریخی چھلانگ، پاکستان مزید نیچے

مچل اسٹارک بمرا کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون بولر بن گئے

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری کر دی، جس کے مطابق آسٹریلوی بولر مچل اسٹارک نے بھارت کے جسپریت بمرا سے پہلی پوزیشن چھین لی۔ اسٹارک 2 درجے ترقی پا کر پہلی بار کیریئر میں نمبر ون ٹیسٹ بولر بن گئے، جبکہ بمرا دوسرے نمبر پر آ گئے۔

رینکنگ میں کیا تبدیلیاں آئیں؟

آئی سی سی کی تازہ ٹیسٹ بولنگ رینکنگ میں مچل اسٹارک نے بنگلادیش کے خلاف حالیہ سیریز میں شاندار کارکردگی، خصوصاً میکے ٹیسٹ میں 10 وکٹیں حاصل کر کے سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیتنے کے بعد سرفہرست مقام حاصل کیا۔ جسپریت بمرا، جو فروری 2024 سے زیادہ تر وقت نمبر ون پوزیشن پر براجمان رہے، سری لنکا کے خلاف جاری سیریز میں شریک نہ ہونے کے باعث دوسرے نمبر پر آ گئے۔ آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز ایک درجہ ترقی پا کر چوتھے نمبر پر پہنچ گئے۔ بلے بازوں کی فہرست میں پاکستان کے عبداللہ شفیق نے 7 درجے ترقی حاصل کی اور وہ 28ویں نمبر پر آ گئے، جبکہ کپتان بابر اعظم ٹاپ ٹین میں واحد پاکستانی بلے باز کے طور پر موجود ہیں۔ انگلینڈ کے ہیری بروک بدستور بلے بازوں کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔ ٹیم رینکنگ میں سب سے نمایاں پیش رفت بنگلادیش کی رہی، جس نے آسٹریلیا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی تاریخی سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے بعد 3 درجے ترقی حاصل کی اور کیریئر کی بہترین چھٹی پوزیشن حاصل کر لی۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں پاکستان ایک درجہ تنزلی کے بعد آٹھویں نمبر پر چلا گیا۔

سوشل میڈیا اور شائقین کا ردعمل

رینکنگ جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ آسٹریلوی اور بھارتی شائقین کے درمیان مچل اسٹارک اور جسپریت بمرا کے موازنے پر بحث چھڑ گئی، جس میں بمرا کے 697 دن نمبر ون پوزیشن پر رہنے کے ریکارڈ کا بھی حوالہ دیا گیا۔ بنگلادیشی شائقین نے اپنی ٹیم کی چھٹی پوزیشن کو “تاریخی کامیابی” قرار دیتے ہوئے آسٹریلیا کے خلاف ڈارون ٹیسٹ میں نو وکٹوں کی تاریخی فتح کا ذکر کیا۔ دوسری جانب پاکستانی شائقین کی جانب سے ٹیم کی مسلسل تنزلی اور بنگلادیش سے پیچھے رہ جانے پر تشویش اور مایوسی کا اظہار کیا گیا، تاہم عبداللہ شفیق اور بابر اعظم کی انفرادی کارکردگی کو سراہا گیا۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مچل اسٹارک کا نمبر ون پوزیشن تک پہنچنا ان کے 15 سالہ طویل ٹیسٹ کیریئر کا اہم ترین سنگ میل ہے، خصوصاً اس عمر میں جب اکثر تیز گیند باز اپنی کارکردگی میں تسلسل کھو دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بنگلادیش کی چھٹے نمبر پر آمد ان کی ٹیم کی مسلسل بہتری اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ سائیکل میں عمدہ کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کرکٹ سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیم کی آٹھویں پوزیشن پر آمد انگلینڈ کے خلاف حالیہ شکست کا براہ راست نتیجہ ہے اور اگر بیٹنگ و بولنگ دونوں شعبوں میں تسلسل پیدا نہ کیا گیا تو رینکنگ میں مزید تنزلی کا خدشہ ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PakvsEng: بابر اعظم کی میدان میں واپسی

ٹیم کی غلطیوں پر کھل کر اظہارِ خیال پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے