
واٹس ایپ نے اکاؤنٹ سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے نئے فیچرز متعارف کرانے کا اعلان کردیا۔ چھ ہندسوں کے پن کی جگہ اب مضبوط پاس ورڈ استعمال کیا جاسکے گا۔
میٹا کی ملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے صارفین کو ہیکنگ اور آن لائن فراڈ سے بچانے کیلئے سکیورٹی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ کمپنی نے 25 اگست کو اعلان کیا کہ ٹو اسٹیپ ویریفکیشن اب چھ ہندسوں کے پن تک محدود نہیں رہے گی۔
نئے نظام کے تحت صارفین حروف، نمبرز اور خصوصی علامات پر مشتمل مضبوط پاس ورڈ بنا سکیں گے۔ واٹس ایپ کے مطابق یہ تبدیلی ایسے حملوں کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کرے گی جن میں ہیکرز صارف کا ون ٹائم کوڈ حاصل کرلیتے ہیں۔
کمپنی نے پاس کی کے استعمال میں بھی نمایاں پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ واٹس ایپ کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد صارفین پہلے ہی پاس کی استعمال کر رہے ہیں۔
پاس کی کے ذریعے صارف فنگر پرنٹ، فیس آئی ڈی یا فون کے اسکرین لاک سے دوبارہ واٹس ایپ اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ اب اینڈرائیڈ اور آئی او ایس دونوں استعمال کرنے والے صارفین ایک اکاؤنٹ میں ایک سے زیادہ پاس کی بھی شامل کرسکیں گے۔
واٹس ایپ نے نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز کیلئے بھی اضافی معلومات فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین کو کال موصول ہونے سے پہلے معلوم ہوسکے گا کہ نمبر کسی دوسرے ملک کا ہے یا نہیں۔
صارفین یہ بھی دیکھ سکیں گے کہ ان کا نامعلوم کالر کے ساتھ کوئی مشترکہ گروپ موجود ہے۔ واٹس ایپ کے مطابق یہ معلومات صارف کو مشکوک کال کا جواب دینے سے پہلے بہتر فیصلہ کرنے میں مدد دیں گی۔
کمپنی کے مطابق فراڈ کرنے والے اکثر صارفین کو عجلت میں فیصلہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اضافی معلومات فراہم کرکے واٹس ایپ ایسے سوشل انجینیئرنگ حملوں کے خطرات کم کرنا چاہتا ہے۔
واٹس ایپ پہلے ہی پیغامات اور کالز کیلئے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن استعمال کرتا ہے۔ تاہم کمپنی اکاؤنٹ سکیورٹی کیلئے مسلسل اضافی حفاظتی اقدامات بھی متعارف کرا رہی ہے۔
رواں سال جون میں واٹس ایپ نے یوزرنیم فیچر کی تیاری بھی شروع کی تھی۔ اس فیچر کے ذریعے صارفین اپنا فون نمبر ظاہر کیے بغیر دوسرے افراد سے رابطہ کرسکیں گے۔
واٹس ایپ کے مطابق تین ارب سے زائد افراد اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں۔ اتنے بڑے صارفین کے نیٹ ورک میں اکاؤنٹ ہائی جیکنگ اور فراڈ سے تحفظ کمپنی کیلئے اہم ترجیح بن چکا ہے۔
کمپنی نے 2023 میں سائلنس اَن نون کالرز فیچر بھی متعارف کرایا تھا۔ یہ فیچر نامعلوم، اسپیم اور ممکنہ فراڈ کالز کو فون پر رنگ کیے بغیر خاموش کردیتا ہے۔
واٹس ایپ نے اسی عرصے میں پرائیویسی چیک اَپ بھی متعارف کرایا تھا۔ یہ سہولت صارفین کو مختلف پرائیویسی سیٹنگز کا مرحلہ وار جائزہ لینے میں مدد دیتی ہے۔
تازہ سکیورٹی اپ ڈیٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واٹس ایپ اکاؤنٹ تحفظ کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔ صارفین کیلئے مضبوط پاس ورڈ اور پاس کی کا استعمال مستقبل میں اکاؤنٹ ہائی جیکنگ کے خطرات کم کرنے میں اہم ثابت ہوسکتا ہے
UrduLead UrduLead