
ہمالیائی سلسلے میں گلیشیئر پھٹنے کے خطرات میں اضافہ، ماہرین کا انتباہ
نیپال اور تبت کی سرحد پر 26 اگست 2026 کو پیش آنے والا تباہ کن سیلابی سانحہ ماہرین کے مطابق پاکستان کے ہمالیائی، ہندوکش اور قراقرم کے سلسلوں، خصوصاً گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ ماہرینِ موسمیات و ارضیات خبردار کر رہے ہیں کہ برفانی تودوں کے تیزی سے پگھلاؤ اور بننے والی نئی جھیلوں کے باعث پاکستان کو بھی ایسے ہی خطرناک سانحات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پس منظر
نیپال-تبت سرحد پر پیش آنے والا واقعہ ابتدائی طور پر 4.4 شدت کے زلزلے کے طور پر ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دراصل ایک برفانی تودے اور چٹانوں کے تودے کے دریا میں گرنے سے پیدا ہونے والا سانحہ تھا، جس نے دریا کو عارضی طور پر بند کر دیا اور پھر اچانک ٹوٹنے سے شدید سیلابی ریلا نیچے کی جانب بہہ نکلا۔ اس سانحے میں 160 سے زائد افراد جاں بحق اور سیکڑوں، جن میں غیر ملکی سیاح اور زائرین بھی شامل ہیں، لاپتہ ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد دیہات، سڑکیں، پل اور بجلی گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں قطبین کے علاوہ سب سے زیادہ گلیشیئرز پائے جاتے ہیں، جسے اکثر “تیسرا قطب” بھی کہا جاتا ہے۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں اب تک 3,000 سے زائد برفانی جھیلیں بن چکی ہیں، جن میں سے 33 کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، جبکہ ان علاقوں میں تقریباً 7.1 ملین افراد براہِ راست خطرے کی زد میں ہیں۔ رواں سال 2026 میں ہی این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات نے مارچ سے اگست تک متعدد بار گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیئر جھیل پھٹنے (GLOF) کے خطرے سے متعلق الرٹس جاری کیے، جن میں ہنزہ، نگر، غذر، سکردو، غانچہ، آستور، دیامر اور چترال جیسے علاقے شامل ہیں۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
نیپال-تبت سانحے کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا صارفین اور ماحولیاتی کارکنان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو گلگت بلتستان اور چترال کے دیہات بھی ایسے ہی سانحات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ رواں سال گرمیوں میں گلگت بلتستان میں سیلابوں اور مٹی کے تودوں سے متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ کئی روز تک منقطع رہا تھا، جس پر مقامی صحافیوں اور رہائشیوں نے حکومتی تیاریوں پر سوالات اٹھائے تھے۔ سوشل میڈیا پر عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لاکھوں افراد کو دیرپا اور مؤثر تحفظ کی ضرورت ہے۔
ماہرین کی رائے
موسمیاتی ماہرین کے مطابق تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز غیر مستحکم برفانی و چٹانی تودے اور بڑھتی ہوئی برفانی جھیلیں تشکیل دے رہے ہیں، جو کسی بھی وقت اچانک پھٹ سکتی ہیں — بالکل اسی طرح جیسے نیپال-تبت میں ہوا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کے ساتھ گلیشیئر پگھلاؤ کا امتزاج خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے، جس سے اچانک سیلاب، مٹی کے تودے اور دریائے سندھ کے بہاؤ پر بھی طویل المدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ قلیل مدت میں پگھلاؤ سے سیلابی خطرہ بڑھتا ہے، جبکہ طویل مدت میں گلیشیئرز کے حجم میں کمی سے خشک موسم میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ ہے، جو زراعت اور پن بجلی پر انحصار کرنے والے پاکستان کے لیے سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں غربت کی شرح بالترتیب تقریباً 27 اور 22 فیصد ہے، جس کے باعث ان کمیونٹیز کے پاس کسی بھی بڑے سانحے سے نمٹنے کی مالی سکت نہایت محدود ہے۔ اگرچہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں 284 سے زائد ابتدائی وارننگ سسٹمز نصب کیے ہیں جن سے جانی نقصان میں کمی آئی ہے، تاہم ماہرین زور دیتے ہیں کہ گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور نئی جھیلوں کی تشکیل کا بنیادی رجحان بدستور جاری ہے، اس لیے نیپال-تبت جیسے بڑے سانحے کا خطرہ پاکستان کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں موجود رہے گا۔
UrduLead UrduLead