جمعرات , اگست 27 2026

ایم ڈی سمیت اعلیٰ حکام کی کروڑوں ماہانہ تنخواہیں

پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری تیل و گیس ادارے “آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ” (او جی ڈی سی ایل) کے اعلیٰ افسران کی ماہانہ تنخواہوں، مراعات اور تقرریوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں

ادارے کے چیف ایگزیکٹو سمیت متعدد افسران لاکھوں سے کروڑوں روپے ماہانہ بنیادی تنخواہ کے علاوہ گھر کا کرایہ، بجلی پانی کے اخراجات، سرکاری گاڑی اور ایندھن کی سہولت بھی حاصل کر رہے ہیں۔

سرکاری دستاویز کے مطابق ایم ڈی/سی ای او احمد حیات لک کی بنیادی تنخواہ 55 لاکھ 64 ہزار روپے ماہانہ سے زائد بتائی گئی ہے، جو ادارے میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے افسر ہیں۔

سرکاری اداروں میں اعلیٰ تنخواہوں کا بڑھتا رجحان

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالی نظم و ضبط، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور عوام پر بڑھتے ٹیکسوں کے بوجھ سے گزر رہا ہے۔ ماضی میں بھی سرکاری اداروں کے سربراہان اور بورڈ ممبران کی تنخواہوں میں اضافے پر عوامی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آتا رہا ہے، جس میں مقننہ کے اراکین کی مراعات میں اضافے کو “غیر ضروری” اور “بدنیتی پر مبنی” قرار دیا جاتا رہا ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے معاملے میں بھی تنقید کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جہاں ادارے کے عام ملازمین اور نچلی سطح کے اہلکار کم اجرت پر کام کر رہے ہیں، وہیں اعلیٰ انتظامیہ کروڑوں روپے ماہانہ تنخواہ، پرکشش الاؤنسز اور دیگر مراعات سے مستفید ہو رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اکثر اسامیوں پر تقرری کا عمل بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سطح پر ہونے کے باعث شفافیت اور میرٹ پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

تفصیلات منظرعام پر آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اسے “عوام کے وسائل کی بندربانٹ” قرار دیا۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک ایسے ادارے کے افسران جو براہِ راست عوام کے قومی وسائل — تیل و گیس — کی نگرانی پر مامور ہیں، ان کی تنخواہیں کم از کم اجرت اور عام سرکاری ملازمین کے مشاہرے سے کئی سو گنا زیادہ کیوں ہیں۔ کئی صارفین نے اسے ملک میں جاری کفایت شعاری کی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تناظر میں “دوہرا معیار” قرار دیا۔ ماضی میں اسی نوعیت کے واقعات پر جب پارلیمانی عہدیداروں کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا تھا تو اسے بعض سینئر سیاستدانوں نے کھلے عام “مالی بے راہ روی” اور “ناقابلِ فہم اقدام” قرار دیا تھا — تبصرہ نگاروں کے مطابق او جی ڈی سی ایل کے تازہ انکشاف پر بھی عوامی جذبات ویسے ہی مشتعل دکھائی دیتے ہیں۔

شفافیت اور مساوات پر سوالات

معاشی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری تجارتی اداروں (SOEs) میں تنخواہوں کا تعین اکثر نجی شعبے کے “مارکیٹ ریٹ” کے نام پر کیا جاتا ہے، تاہم اس کا موازنہ عوامی شعبے کی کم از کم اجرت یا سرکاری گریڈ کے ملازمین سے کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق سامنے آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے فیصلے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی سطح پر ہونے کے باعث پارلیمانی نگرانی محدود رہتی ہے، جس سے احتساب کا عمل کمزور پڑ جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں حکومت کو چاہیے کہ سرکاری اداروں کے سربراہان کی تنخواہوں اور مراعات کا تعین کرتے وقت ادارے کی مالی کارکردگی، عوامی وسائل پر بوجھ اور سماجی مساوات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

او جی ڈی سی ایل اعلیٰ افسران کی تنخواہیں و مراعات

نمبر نام عہدہ بنیادی تنخواہ (ماہانہ) تقرری کا طریقہ
1 احمد حیات لاک ایم ڈی/سی ای او 55,64,517 روپے پریس اشتہار، ہیڈ ہنٹرز کی شارٹ لسٹنگ، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری
2 محمد انس فاروق چیف فنانشل آفیسر (CFO) 28,37,940 روپے پریس اشتہار، ہیڈ ہنٹرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز
3 شہزاد صفدر ایگزیکٹو ڈائریکٹر (HR) 18,88,289 روپے پریس اشتہار، ہیڈ ہنٹرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز
4 ضیا صلاح الدین ایگزیکٹو ڈائریکٹر (Services) 18,64,482 روپے پریس اشتہار، ہیڈ ہنٹرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز
5 عاطف غفور مرزا ایگزیکٹو ڈائریکٹر (JV & BD) 18,02,640 روپے پریس اشتہار، ہیڈ ہنٹرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز
6 محمد عامر سلیم ایگزیکٹو ڈائریکٹر (Petroserv) 22,10,984 روپے پریس اشتہار، ہیڈ ہنٹرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز
7 حبیب اللہ چوہان جی ایم آئی/سی (پروڈکشن) 7,29,102 روپے پریس اشتہار، HR ڈیپارٹمنٹ، مجاز اتھارٹی
8 ڈاکٹر خالد امین خان جی ایم آئی/سی (ایکسپلوریشن) 9,05,667 روپے پریس اشتہار، HR ڈیپارٹمنٹ، مجاز اتھارٹی
9 خرم شیراز جنرل منیجر (انٹرنل آڈٹ) 11,02,563 روپے پریس اشتہار، HR ڈیپارٹمنٹ، بورڈ آف ڈائریکٹرز
10 وسیم احمد کمپنی سیکرٹری 6,62,964 روپے پریس اشتہار، HR ڈیپارٹمنٹ، بورڈ آف ڈائریکٹرز

About Aftab Ahmed

Check Also

PakvsEng: بابر اعظم کی میدان میں واپسی

ٹیم کی غلطیوں پر کھل کر اظہارِ خیال پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے