
برطانیہ کی کوئنز یونیورسٹی بیلفاسٹ کے سائنسدانوں نے جلد کے ابتدائی مرحلے کے کینسر کے علاج کو سہل اور کم تکلیف دہ بنانے کے لیے ایک نیا گھل جانے والا تھری ڈی پرنٹڈ پیچ تیار کر لیا ہے۔
پیچ کیسے کام کرتا ہے؟
اس چھوٹے پیچ پر انتہائی باریک مائیکرو نیڈلز نصب ہیں جو خون نکالے بغیر جلد کی بیرونی سطح میں داخل ہو کر دوا کو براہِ راست متاثرہ مقام تک پہنچاتے ہیں۔ ابتدائی تجربات میں اس پیچ کے ذریعے دو اینٹی کینسر ادویات، کرکیومن اور 5-فلورویوراسل، کینسر زدہ حصے تک منتقل کی گئیں۔
محققین کے مطابق اس طریقہ کار سے علاج کی افادیت بڑھ سکتی ہے جبکہ بار بار ادویات لگانے یا انجیکشن جیسے تکلیف دہ طریقہ ہائے علاج پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیقی منصوبہ کوئنز یونیورسٹی کے اسکول آف فارمیسی کی پی ایچ ڈی طالبہ روتوجا این میشرام اور بایوفیبریکیشن و ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ کے پروفیسر دیمتریوس اے لیمپرو کی زیرنگرانی مکمل ہوا۔
پس منظر: جلد کے کینسر کے علاج میں جدت کا رجحان
جلد کا کینسر دنیا بھر میں عام ترین اقسام میں شمار ہوتا ہے اور بروقت تشخیص کی صورت میں اس کا علاج نسبتاً آسان ہوتا ہے، تاہم روایتی طریقہ ہائے علاج جیسے سرجری، کریموں کا طویل استعمال یا انجیکشن مریضوں کے لیے تکلیف دہ اور وقت طلب ثابت ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر کے محققین مائیکرو نیڈل ٹیکنالوجی اور تھری ڈی پرنٹنگ کو ادویات کی براہِ راست اور ہدف بند ترسیل (targeted drug delivery) کے لیے استعمال کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، تاکہ علاج کم تکلیف دہ، کم وقت طلب اور زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔ یہ نیا پیچ اسی جدید تحقیقی رجحان کی ایک کڑی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
طبی و سائنسی حلقوں سے وابستہ صارفین سوشل میڈیا پر اس ایجاد کو کینسر کے علاج میں ایک امید افزا پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔ کئی صارفین اس بات پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ مستقبل میں انجیکشن اور بار بار دوا لگانے جیسے تکلیف دہ طریقوں سے مریضوں کو نجات مل سکے گی، تاہم کچھ صارفین اس ٹیکنالوجی کے عام مریضوں تک پہنچنے میں لگنے والے وقت اور لاگت سے متعلق سوالات بھی اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گھل جانے والے مائیکرو نیڈل پیچ جیسی ٹیکنالوجیز ادویات کی ترسیل کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں، کیونکہ یہ دوا کو براہِ راست متاثرہ خلیوں تک پہنچا کر جسم کے دیگر حصوں پر اس کے مضر اثرات کم کر دیتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق تاہم اس ٹیکنالوجی کو انسانوں پر وسیع پیمانے پر آزمانے اور اس کی حفاظت و افادیت ثابت کرنے کے لیے مزید کلینیکل ٹرائلز درکار ہوں گے۔
UrduLead UrduLead