جمعرات , اگست 27 2026

پمز سانحہ: 14 نومولود بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے

شناخت پر سوالات اور احتجاج

پمز اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے سانحے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں، تاہم بعض لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بچوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے کی جائے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ میتیں مکمل شناخت کے بغیر ہی حوالے کر دی گئیں، جس پر انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پس منظر

بدھ کی صبح تقریباً پونے سات بجے اسلام آباد کے سرکاری اسپتال پمز کے گائناکالوجی وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق نرسری میں موجود ایئرکنڈیشن کمپریسر میں دھماکے یا شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی، جو نرسری میں موجود آکسیجن پوائنٹس کی وجہ سے تیزی سے پھیل گئی۔ نرسری میں مجموعی طور پر 15 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ چونکہ بیشتر بچے شدید جھلسنے کے باعث ناقابلِ شناخت ہو چکے تھے، اس لیے حکام نے شروع ہی سے والدین اور بچوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کرکے شناخت کی تصدیق کا عندیہ دیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا اور وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ صارفین اسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت، نرسری کے دروازے مبینہ طور پر بند ہونے، اور امدادی کارروائیوں میں تاخیر پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ کچھ متاثرہ والدین نے میڈیا سے گفتگو میں یہ الزام بھی لگایا کہ جب آگ لگی تو نرسری میں طبی عملہ موجود نہیں تھا، جس پر صارفین شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اب بغیر شناخت کے میتیں حوالے کیے جانے کی اطلاعات پر بھی آن لائن تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین و حکام کی رائے

طبی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حادثات میں شدید جھلسے ہوئے اجسام کی حتمی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ ہی سب سے معتبر ذریعہ تصور کیا جاتا ہے، اور شناخت کے عمل کو نظرانداز کرنا مستقبل میں قانونی و اخلاقی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ حکام کا مؤقف رہا ہے کہ میتیں تصدیق کے بعد ہی حوالے کی جائیں گی، تاہم لواحقین کے دعووں سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ آیا یہ عمل مکمل کیا گیا یا نہیں۔ اسپتال انتظامیہ نے دروازہ بند ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے دو تحقیقاتی کمیٹیاں کام کر رہی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بنگلادیش کی تاریخی چھلانگ، پاکستان مزید نیچے

مچل اسٹارک بمرا کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون بولر بن گئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے