جمعرات , اگست 27 2026

نعمان اعجاز کا کینسر سے صحتیابی کا انکشاف

“سورہ رحمن کی برکت سے شفا ملی”

سینئر پاکستانی اداکار نعمان اعجاز نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ گفتگو میں انکشاف کیا ہے کہ وہ جون 2024 میں کینسر کی تشخیص کے بعد سورہ رحمن کی مسلسل تلاوت کے ذریعے صحتیاب ہوئے۔ اداکار نے پوڈکاسٹر “پاکیاولین” کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ان کے کان کے قریب ایک ٹیومر اور معدے میں لمفوما (lymphoma) کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم آپریشن اور تلاوت کے بعد لمفوما اسکینز میں دوبارہ ظاہر ہی نہیں ہوا۔

پس منظر

نعمان اعجاز پاکستانی ٹی وی انڈسٹری کے معروف اور تجربہ کار اداکار ہیں، جنہوں نے “فشار”، “دشت”، “نجات”، “بھائی”، “الّو برائے فروخت نہیں”، “دم پخت”، “من و سلویٰ”، “میں مر گئی شوکت علی”، “کیسی تیری خودغرضی”، “پریزاد”، “بشر مومن”، “ڈنک”، “مائی ری”، “بسمل” اور “شرپسند” جیسے مقبول ڈراموں میں یادگار کردار ادا کیے ہیں۔ فی الحال وہ نادیہ آفگن کے ساتھ ایک نئے ڈرامہ سیریل کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔ پوڈکاسٹ کے دوران اداکار نے بتایا کہ تشخیص کے فوراً بعد انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ اگر انہوں نے اپنا مقصد پورا کر لیا ہے تو ان کی جان جلد لے لی جائے تاکہ خاندان کو ہسپتالوں اور کیموتھراپی کی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔ ان کے مطابق ان کے دوست گوہر بٹ نے انہیں سورہ رحمن کی تلاوت شروع کرنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد سے وہ روزانہ اس کی تلاوت کرتے ہیں۔ اداکار کا کہنا تھا کہ کان کے قریب موجود ٹیومر کا آپریشن کیا گیا جبکہ معدے کا لمفوما از خود ختم ہوگیا اور جولائی میں شروع ہونے والی متوقع کیموتھراپی کی نوبت ہی نہ آئی۔

سوشل میڈیا اور مداحوں کا ردعمل

نعمان اعجاز کے اس جذباتی انکشاف پر سوشل میڈیا صارفین اور مداحوں کی جانب سے دعاؤں اور نیک خواہشات کا سلسلہ جاری ہے۔ بیشتر مداح اداکار کی صحتیابی پر شکرگزاری کا اظہار کرتے ہوئے اسے اللہ کا خاص کرم اور معجزہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ کئی صارفین نے اپنی زندگیوں میں پیش آنے والے مشکل وقت میں قرآنی تلاوت سے روحانی سکون ملنے کے تجربات بھی شیئر کیے۔ اداکار کے مداحوں میں یہ گفتگو خاص طور پر وائرل ہوئی کیونکہ نعمان اعجاز نے اس دوران اپنی نجی زندگی اور ایمان سے متعلق نہایت کھل کر بات کی، جو عموماً پاکستانی شوبز شخصیات کم ہی کرتی ہیں۔

ماہرین کی رائے

طبی ماہرین عمومی طور پر یہ واضح کرتے ہیں کہ روحانی عمل، دعا اور تلاوت مریض کے ذہنی و جذباتی سکون کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور علاج کے دوران حوصلہ برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کسی بھی کینسر کے مریض کو معالج کی زیرِ نگرانی علاج جاری رکھنا چاہیے۔ لمفوما جیسے کینسر میں بعض اوقات بے ساختہ بہتری (spontaneous remission) کے واقعات طبی لٹریچر میں نایاب مگر موجود ہیں، جنہیں سائنس اب بھی مکمل طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PakvsEng: بابر اعظم کی میدان میں واپسی

ٹیم کی غلطیوں پر کھل کر اظہارِ خیال پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے