جمعرات , اگست 27 2026

PakvsEng: بابر اعظم کی میدان میں واپسی

ٹیم کی غلطیوں پر کھل کر اظہارِ خیال

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا مقابلہ آج سے تاریخی گراؤنڈ لارڈز میں شروع ہو رہا ہے، جہاں پاکستان کو سیریز میں برابری کے لیے فتح ناگزیر ہے۔

کپتان بابر اعظم نے میچ سے قبل پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ ٹیم پارٹنرشپ بناتی ہے لیکن اس کے بعد لگاتار وکٹیں گنوا بیٹھتی ہے، اور جمے ہوئے بلے باز بھی آؤٹ ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف محمد رضوان نہیں بلکہ پوری ٹیم کو اپنی کارکردگی کی ذمہ داری لینا ہوگی۔

پس منظر

تین میچوں کی اس سیریز میں انگلینڈ پہلے ہی 1-0 کی برتری حاصل کر چکا ہے، جہاں ہیڈنگلے میں پاکستانی ٹیم کو ایک اننگز اور 103 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بابر اعظم انگلی کی چوٹ کے باعث پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے، تاہم اب وہ لارڈز میں تقریباً 90 فیصد فٹنس کے ساتھ واپسی کر رہے ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان اسی گراؤنڈ پر 2016 اور 2018 میں انگلینڈ کو شکست دے چکا ہے، جس سے ٹیم کے پاس لارڈز میں مثبت تاریخ موجود ہے۔ بابر اعظم نے بولنگ اور بیٹنگ کے درمیان توازن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر باؤلرز پوری ٹیم کو آؤٹ کر دیں تو بلے بازوں کا بھی فرض ہے کہ وہ رنز بنائیں۔

سوشل میڈیا ردعمل

بابر اعظم کی واپسی اور پہلے ٹیسٹ کی بھاری شکست کے بعد شائقین کرکٹ میں ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف مداح کپتان کی فٹنس اور تجربے کو ٹیم کے لیے سہارا قرار دے رہے ہیں، تو دوسری جانب بیٹنگ لائن اپ کی مسلسل ناکامیوں پر تنقید بھی جاری ہے۔ لارڈز میں ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ شائقین ٹیم سے واپسی کی امید بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ مبصرین کے مطابق پاکستانی ٹیم کی سب سے بڑی کمزوری بیک ٹو بیک وکٹوں کا گرنا ہے، جو کسی بھی ٹیسٹ میچ میں دباؤ کو بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کی موجودگی مڈل آرڈر کو استحکام دے سکتی ہے، لیکن اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا سیٹ بلے باز طویل اننگز کھیل کر بڑی شراکتیں قائم کر پاتے ہیں یا نہیں۔ لارڈز کی تاریخی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کئی تجزیہ کار پاکستان کو ہلکا سا فیورٹ بھی قرار دے رہے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بنگلادیش کی تاریخی چھلانگ، پاکستان مزید نیچے

مچل اسٹارک بمرا کو پیچھے چھوڑ کر نمبر ون بولر بن گئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے