
“ڈاکٹر نہیں، میں نے خود بچی بچائی”
دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کی نرسری میں بدھ کی صبح لگنے والی ہولناک آگ میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد زندہ بچ جانے والی واحد بچی کی خالہ نے ہسپتال انتظامیہ کے دعوے کی سرِعام تردید کر دی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی بھانجی کو کسی ڈاکٹر نے نہیں بلکہ انہوں نے خود آگ کے شعلوں میں سے نکال کر بچایا، جبکہ اس وقت وارڈ میں ایک بھی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی۔
کیا ہوا تھا؟
سرکاری حکام کے مطابق آگ بدھ کی صبح قریباً پونے سات بجے پمز کے میٹرنٹی اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں لگی۔ ابتدائی طور پر انتظامیہ نے آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ بتائی، تاہم بعد میں مختلف حکام کی جانب سے ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے اور آکسیجن سپلائی کو بھی وجہ قرار دیا گیا۔ نرسری میں اس وقت 15 نومولود بچے زیرِ علاج تھے، جن میں سے صرف ایک بچی کو زندہ بچایا جا سکا جبکہ باقی تمام بچے شدید جھلسنے کے باعث جاں بحق ہو گئے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے وقت نرسری میں 2 ڈاکٹرز اور 4 نرسیں موجود تھیں اور ایک لیڈی ڈاکٹر نے بروقت کارروائی کر کے ایک بچی کی جان بچائی۔ ریسکیو ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ فائر ہوزز میں کپلنگز موجود نہیں تھیں اور فائر پوائنٹ پر پانی بھی دستیاب نہیں تھا، جس سے ابتدائی امدادی کارروائی متاثر ہوئی۔ واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس طلب کیا، وفاقی سیکرٹری صحت اسلم غوری کو فوری معطل کر کے عہدے سے ہٹا دیا اور سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔
عینی شاہد کا بیان: انتظامیہ کے دعوے پر سوالیہ نشان
زندہ بچ جانے والی نومولود بچی کی خالہ نے میڈیا کو بتایا کہ آگ لگنے کے وقت وہ خود اسپتال میں موجود تھیں۔ ان کے مطابق جیسے ہی آگ لگی، وہ وارڈ کی جانب بھاگیں تو سامنے سے ایک لیڈی ڈاکٹر خود بھاگتی ہوئی آ رہی تھی۔ پوچھنے پر ڈاکٹر نے کہا کہ “کسی مرد کو بلائیں”، جس پر خاتون نے ایک مرد کو بلا کر صورتحال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ آگ لگ چکی ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ یہ سنتے ہی وہ خود وارڈ کے اندر بھاگیں، عملے کو بتایا کہ ان کی بھانجی بھی اندر موجود ہے، اور خود جا کر بچی کو اٹھا لیا، جس دوران ان کے بال اور کندھا معمولی حد تک جھلس گئے۔ ان کے بقول اس وقت وارڈ میں ایک بھی ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور طبی عملہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا، جبکہ موجود واحد مرد ڈاکٹر بھی موقع سے فرار ہو گیا۔ خاتون نے بتایا کہ ان کی بہن کا آپریشن ہوا تھا، لہٰذا انہوں نے بہن اور بچی دونوں کو سنبھالا اور خود باہر نکالا۔ خالہ کے مطابق پمز انتظامیہ واقعے کے بعد سے مسلسل متضاد مؤقف اپنا رہی ہے — کبھی کہا جاتا ہے کہ “غلط بچی اٹھا لی گئی ہے اور یہ آپ کی نہیں ہے”، تو کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بچی کو نرس نے بچایا، حالانکہ خاتون کے مطابق موقع پر کوئی نرس موجود ہی نہیں تھی۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
سانحے کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ صارفین نے سرکاری اسپتال کی فائر سیفٹی کی سنگین خامیوں پر سوالات اٹھائے اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی کی جائے۔ ایک متاثرہ باپ نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا کہ نرسری میں معمول کے دنوں میں 50 سے 55 بچے موجود ہوتے تھے اور واقعے کے وقت انکیوبیشن سینٹر میں عملہ موجود نہیں تھا۔ انہوں نے حکومتی نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کے لیے بنیادی حفاظتی سہولیات میسر نہیں جبکہ بااثر افراد کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی شدید ردعمل سامنے آیا؛ پیپلز پارٹی رہنما شرمیلا فاروقی نے مطالبہ کیا کہ محض سیکرٹری صحت کو ہٹانا کافی نہیں، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو فوری استعفیٰ دینا چاہیے، جبکہ بلاول بھٹو، مراد علی شاہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ دوسری جانب حکومتی رہنما طلال چوہدری نے ریسکیو آپریشن میں غفلت کے الزامات کو مسترد کیا۔
احتساب صرف ایک افسر تک محدود کیوں؟
طبی و انتظامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال کی نرسری جیسے حساس ترین یونٹ میں فائر سیفٹی کا نظام ناکارہ ہونا اور ہنگامی صورتحال میں طبی عملے کا مریضوں کو چھوڑ کر نکل جانا سنگین انتظامی و اخلاقی ناکامی ہے۔ ناقدین کے مطابق ایک ہی افسر کو ہٹا دینے سے یہ سوال حل نہیں ہوتا کہ اسپتال میں فائر ہوزز کی کپلنگز کیوں غائب تھیں، فائر پوائنٹ پر پانی کیوں دستیاب نہیں تھا، اور نرسری میں گنجائش سے زیادہ بچے کیوں رکھے جاتے رہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے بیانات اور اسپتال انتظامیہ کے متضاد مؤقف سے شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگتا ہے، اور تحقیقاتی کمیٹی کو نہ صرف آگ لگنے کی اصل وجہ بلکہ ریسکیو کے دوران عملے کی ذمہ داری سے پہلوتہی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ہوگا۔
UrduLead UrduLead