
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا فیصلہ کن اور تیسرا ون ڈے آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، جہاں دونوں ٹیمیں سیریز اپنے نام کرنے کے لیے میدان میں اتریں گی۔
تین میچوں کی سیریز اس وقت ایک، ایک سے برابر ہے۔ پاکستان نے راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ون ڈے میں آسٹریلیا کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر برتری حاصل کی تھی، تاہم مہمان ٹیم نے لاہور میں دوسرے میچ میں 41 رنز سے کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کردی۔
دوسرے ون ڈے میں پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ کا شکار نظر آئی اور شاداب خان کی ذمہ دارانہ نصف سنچری کے باوجود ٹیم 232 رنز کا ہدف حاصل نہ کرسکی۔ اس ناکامی کے بعد قومی ٹیم کی ٹاپ آرڈر بیٹنگ اور حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
قومی ٹیم کو فیصلہ کن معرکے میں اپنے سینئر کھلاڑیوں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان سے بڑی اننگز اور مؤثر کارکردگی کی توقع ہوگی، جبکہ نوجوان کھلاڑی بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پُرعزم ہیں۔
دوسری جانب آسٹریلیا کی ٹیم دوسرے میچ میں شاندار کم بیک کے بعد بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ آسٹریلوی بولرز نے گزشتہ میچ میں عمدہ لائن اور لینتھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بیٹنگ کو مشکلات سے دوچار رکھا تھا، جبکہ ان کے مڈل آرڈر بلے بازوں نے بھی اہم شراکتیں قائم کیں۔
ماہرین کے مطابق قذافی اسٹیڈیم کی وکٹ اب تک بولرز، خاص طور پر اسپنرز، کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث ٹاس بھی میچ کے نتیجے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
UrduLead UrduLead