
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مرچنڈائز ٹریڈ شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے ابتدائی گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 34.76 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث تجارتی توازن مزید دباؤ کا شکار رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مئی 2025-26 کے دوران پاکستان کی مجموعی برآمدات 7.832 ٹریلین روپے (27.90 ارب ڈالر) رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں برآمدات 8.247 ٹریلین روپے (29.56 ارب ڈالر) تھیں۔ اس طرح برآمدات میں روپے کی بنیاد پر 5.03 فیصد اور ڈالر کی بنیاد پر 5.61 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

دوسری جانب اسی مدت کے دوران درآمدات بڑھ کر 17.608 ٹریلین روپے (62.66 ارب ڈالر) تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے 16.507 ٹریلین روپے (59.15 ارب ڈالر) کے مقابلے میں روپے کی بنیاد پر 6.67 فیصد اور ڈالر کی بنیاد پر 5.94 فیصد زیادہ ہیں۔
نتیجتاً جولائی تا مئی 2025-26 کے دوران پاکستان کا مجموعی تجارتی خسارہ 9.775 ٹریلین روپے (34.76 ارب ڈالر) ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ خسارہ 8.260 ٹریلین روپے (29.59 ارب ڈالر) تھا۔ یوں تجارتی خسارے میں روپے کے حساب سے 18.34 فیصد اور ڈالر کے لحاظ سے 17.48 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ بنیادوں پر تاہم مئی 2026 میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی۔ مئی کے دوران برآمدات بڑھ کر 2.705 ارب ڈالر ہو گئیں، جو اپریل 2026 کے مقابلے میں 9.59 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ درآمدات 21.45 فیصد کمی کے بعد 5.287 ارب ڈالر رہ گئیں۔
اس کے نتیجے میں مئی 2026 کا ماہانہ تجارتی خسارہ کم ہو کر 2.582 ارب ڈالر رہ گیا، جو اپریل کے 4.263 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 39.43 فیصد کم ہے۔
سالانہ بنیادوں پر بھی مئی 2026 میں برآمدات میں 1.26 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 6.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث ماہانہ تجارتی خسارہ مئی 2025 کے مقابلے میں 13.68 فیصد کم رہا۔
UrduLead UrduLead