
اسلام آباد میں بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی اور قانونی تنازع کے التوا کے باعث وفاقی دارالحکومت کا انتظامی ڈھانچہ ایک طویل ادارہ جاتی بحران کا شکار ہے، جہاں اختیارات میں مسلسل اضافہ تو ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ جمہوری نگرانی اور عوامی جوابدہی کا نظام کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال جون 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد پیدا ہوئی جس میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو اس کے آرڈیننس کی دفعہ 52 کے تحت تحلیل کرنے اور بلدیاتی اختیارات اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی) کو منتقل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کو ضروری قرار دیا تھا۔ تاہم نومبر 2025 میں عدالت کے ڈویژن بینچ نے اس فیصلے کو معطل کر دیا، جس کے بعد اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ جوں کا توں برقرار رہا۔
2021 سے بلدیاتی انتخابات نہ ہونے کے باعث سی ڈی اے نے رفتہ رفتہ اپنے روایتی کردار، یعنی ماسٹر پلاننگ اور ترقیاتی منصوبوں، سے آگے بڑھ کر بلدیاتی خدمات کے بیشتر شعبوں پر بھی عملی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ان میں شہری منصوبہ بندی کی منظوری، پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، میونسپل سروسز، ترقیاتی ریگولیشن اور دیگر شہری امور شامل ہیں، جو عمومی طور پر منتخب بلدیاتی اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
سی ڈی اے کے بڑھتے ہوئے کردار کے ساتھ ساتھ وفاقی دارالحکومت میں انسداد تجاوزات کی کارروائیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نورپور شاہان (بری امام)، ایچ-9 کی رمشا کالونی اور دیگر غیر رسمی آبادیوں میں ہونے والی انہدامی کارروائیوں نے عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق متعدد خاندان بے گھر ہوئے، روزگار سے محروم ہوئے اور انہیں مناسب متبادل رہائش یا بحالی کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔ بعض علاقوں میں ان کارروائیوں کے خلاف احتجاج اور قانونی چارہ جوئی بھی سامنے آئی۔
دوسری جانب سی ڈی اے ایک نئی سمت میں بھی پیش رفت کر رہا ہے، جہاں ادارہ خود کو سرمایہ کاری پر مبنی شہری ترقی کے ماڈل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں میں اسلام آباد میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور مشترکہ منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق شہری انفراسٹرکچر، ہوٹلنگ، کمرشل منصوبوں اور بڑے ترقیاتی پراجیکٹس میں غیر ملکی اور سمندر پار پاکستانی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ سی ڈی اے حکام اسلام آباد کو ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری دوست شہر کے طور پر متعارف کرانے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ بڑے ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے جدید پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کا بیک وقت شہری منتظم اور سرمایہ کاری کے سہولت کار کے طور پر ابھرنا ادارہ جاتی حدود کو مزید دھندلا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق جب زمین کے استعمال، ترقیاتی منظوریوں، شہری خدمات اور سرمایہ کاری کے فیصلے ایک ہی وفاقی ادارے کے ہاتھ میں ہوں تو اختیارات کا ارتکاز شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی توازن کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
شہری امور کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ماڈل منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد اور سرمایہ کاری کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن منتخب بلدیاتی نمائندگی کی عدم موجودگی میں عوامی شرکت اور مقامی سطح پر فیصلہ سازی کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
قانونی کارروائی تاحال جاری ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں اسلام آباد کا انتظامی نظام بتدریج ایک ایسے ماڈل کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جہاں اختیارات کی مرکزیت بڑھ رہی ہے اور مقامی جمہوری نمائندگی پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اس پورے منظرنامے میں سی ڈی اے نہ صرف شہری انتظام و انصرام کا مرکزی ادارہ بن چکا ہے بلکہ وفاقی دارالحکومت کی مستقبل کی ترقیاتی اور سرمایہ کاری حکمت عملی کا بھی بنیادی محور بنتا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead