ایران سے کشیدگی پر امریکہ، پاکستان اور ایران کے بیانات میں تضاد

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکہ، پاکستان اور ایران کے درمیان سفارتی بیانات میں واضح تضاد سامنے آیا ہے، جبکہ امریکی نائب صدر JD Vance کا متوقع دورۂ پاکستان بھی فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس آج مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے۔ اس پیش رفت سے قبل امریکی میڈیا میں رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ ایران کی جانب سے خاطر خواہ ردعمل نہ ملنے کے باعث مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے وینس کا دورہ مؤخر کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے، جو اس معاملے پر براہ راست معلومات رکھتے ہیں، میڈیا کو بتایا کہ یہ دورہ مستقل طور پر منسوخ نہیں ہوا بلکہ حالات سازگار ہونے پر کسی بھی وقت دوبارہ طے کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں اور واشنگٹن خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت نے امریکہ سے ایران پر ممکنہ حملہ نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم Shehbaz Sharif اور آرمی چیف Asim Munir نے امریکی قیادت سے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے متفقہ تجاویز سامنے آنے تک صبر کیا جائے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ نے جنگ بندی میں عارضی توسیع کر دی ہے تاکہ مذاکراتی عمل کو مکمل ہونے کا موقع مل سکے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکی افواج کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی۔
اس کے برعکس ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع یکطرفہ طور پر کی گئی ہے اور اس کا ایران کی جانب سے کوئی باضابطہ حصہ نہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کا کوئی مطلب نہیں، کیونکہ ہارنے والا فریق شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال نے خطے میں غیر یقینی کو مزید بڑھا دیا ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب بیانات کی جنگ بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکہ کے متضاد مؤقف اس عمل کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کا اگلا دور کب اور کہاں ہوگا، تاہم عالمی برادری کی نظریں اس حساس صورتحال پر جمی ہوئی ہیں، جہاں کسی بھی پیش رفت کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead