
کم عمر بچوں کی پرورش کرنے والے والدین کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوتا ہے کہ وہ روزمرہ مصروفیات کے دوران بچوں کو کیسے مصروف اور محفوظ رکھیں۔
ماہرین کے مطابق موبائل فون اور ٹیبلٹ کا استعمال بظاہر ایک آسان حل ہے، مگر اس کے طویل المدتی اثرات بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما پر منفی پڑ سکتے ہیں۔
گھریلو امور، ملازمت، سفر یا دیگر مصروفیات کے دوران اکثر والدین کو ایسے لمحات کا سامنا ہوتا ہے جب بچے پر مسلسل توجہ دینا ممکن نہیں رہتا۔ ایسے میں فوری طور پر سکرین کا سہارا لیا جاتا ہے، جو وقتی طور پر بچے کو مصروف تو رکھتی ہے لیکن ماہرین اسے ایک غیر صحت مند عادت قرار دیتے ہیں۔
ماہرینِ اطفال کا کہنا ہے کہ ابتدائی عمر میں زیادہ سکرین ٹائم بچوں کی سماجی مہارت، حسی نشوونما اور تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس وہ والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ بچوں کو سادہ اور کھلے انداز کے کھیلوں کی طرف راغب کیا جائے، جو ان کی خودمختاری اور جستجو کو فروغ دیتے ہیں۔
سادہ اشیا، بہتر سیکھنے کا ذریعہ
ماہرین کے مطابق بچوں کو کھیل کے لیے ایسی اشیا فراہم کی جائیں جو کسی ایک مقصد تک محدود نہ ہوں، جیسے لکڑی کے چمچ، کپڑے، سلیکون رنگ یا ڈبے۔ یہ اشیا بچے کو مختلف انداز سے کھیلنے اور نئی چیزیں دریافت کرنے کا موقع دیتی ہیں۔
یہ طریقہ کار “ٹریژر باسکٹ” اور “ہیورسٹک پلے” جیسے تصورات سے جڑا ہوا ہے، جس میں بچہ بغیر کسی براہ راست رہنمائی کے خود سیکھتا ہے اور اپنے تخیل کو استعمال کرتا ہے۔
عمر کے مطابق سرگرمیاں ضروری
رپورٹ کے مطابق ایک سال تک کے بچے سادہ اشیا کو تلاش کرنے اور چھپانے جیسے کھیلوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ ایک سے دو سال کے بچوں کے لیے مختلف اشیا کو ترتیب دینا مفید ہوتا ہے۔ دو سے تین سال کی عمر میں بچے چھوٹے منصوبے بنانے کی طرف مائل ہوتے ہیں، جس سے ان کی باریک حرکات اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔
کم اشیا، زیادہ توجہ
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک وقت میں بہت زیادہ کھلونے دینے کے بجائے محدود تعداد میں اشیا فراہم کی جائیں۔ اس سے بچے کی توجہ مرکوز رہتی ہے اور وہ ایک ہی سرگرمی میں زیادہ دیر تک مصروف رہتا ہے۔
حفاظت کو اولین ترجیح
بچوں کے کھیل کے دوران حفاظتی اقدامات انتہائی اہم ہیں۔ ماہرین کے مطابق تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے استعمال ہونے والی اشیا کا سائز کم از کم چار سینٹی میٹر ہونا چاہیے تاکہ نگلنے کے خطرے سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ اشیا کی باقاعدہ جانچ اور بچوں کی نگرانی بھی ضروری ہے۔
سکرین ٹائم سے گریز کی ہدایت
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 12 سے 18 ماہ کی عمر تک بچوں کو سکرین سے مکمل طور پر دور رکھنا چاہیے، جبکہ بعض نئی تحقیقات اس حد کو مزید بڑھانے کی سفارش کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مختصر ویڈیو کالز کو مثبت استثنا سمجھا جا سکتا ہے، تاہم ویڈیوز اور سکرین پر مبنی سرگرمیاں بچوں کی فطری نشوونما کے لیے مؤثر متبادل نہیں ہیں۔
متوازن پرورش کی ضرورت
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ سادہ، تخلیقی اور جسمانی سرگرمیوں پر مبنی کھیل بچوں کی مجموعی نشوونما کے لیے زیادہ مؤثر ہیں۔ ایسے کھیل نہ صرف بچے کو خود مختار بناتے ہیں بلکہ اسے ایک پُرسکون اور متوازن شخصیت کی طرف بھی لے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق والدین کو چاہیے کہ وہ سکرین کے فوری حل کے بجائے ایسے متبادل طریقے اپنائیں جو بچوں کی طویل المدتی ترقی کے لیے مفید ہوں۔
UrduLead UrduLead