
نئی سائنسی تحقیق کے مطابق رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں ذیابیطس، دل کے امراض اور ہارمونل مسائل کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
حالیہ سائنسی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کو سنگین صحتی خطرات کا سامنا ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد میں ذیابیطس، دل کے امراض، بلند کولیسٹرول اور ہارمونز کے بگاڑ کا امکان عام افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی حیاتیاتی نظام دن اور رات کے معمول کے مطابق ترتیب پاتا ہے، جس میں خلل صحت پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کے اوقات میں جاگنے اور دن میں سونے کا معمول جسم کے سرکیڈین ردھم کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ردھم جسم کے میٹابولزم، انسولین کی کارکردگی اور ہارمونز کے اخراج کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب یہ نظام متاثر ہوتا ہے تو خون میں شوگر کی سطح غیر متوازن ہو سکتی ہے، جس سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
دل کے امراض کے حوالے سے بھی نتائج تشویشناک ہیں۔ ماہرین کے مطابق نیند کی کمی اور بے ترتیبی بلڈ پریشر کو بڑھاتی ہے اور شریانوں پر دباؤ ڈالتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کی بیماریوں اور فالج کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی بڑی وجہ ہیں، اور طرزِ زندگی اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ بھی رات کی شفٹ سے منسلک پایا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق غیر معمولی اوقات میں کھانا کھانے اور جسمانی سرگرمی میں کمی چربی کے میٹابولزم کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خراب کولیسٹرول بڑھتا ہے جبکہ اچھا کولیسٹرول کم ہو جاتا ہے، جو دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
ہارمونل بگاڑ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ماہرین کے مطابق نیند کے دوران خارج ہونے والے ہارمونز جیسے میلاٹونن اور کورٹیسول کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ یہ ہارمونز نہ صرف نیند بلکہ مدافعتی نظام اور ذہنی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ سے تھکن، ذہنی دباؤ اور وزن میں اضافے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاریخی طور پر صنعتی ترقی کے بعد رات کی شفٹوں کا رجحان بڑھا ہے، خاص طور پر صحت، سیکیورٹی اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں۔ تاہم حالیہ برسوں میں متعدد مطالعات نے اس طرزِ زندگی کے منفی اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ 2024 میں شائع ہونے والی ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 فیصد شہری ورک فورس کسی نہ کسی شکل میں شفٹ ورک سے وابستہ ہے۔
حالیہ پالیسی مباحث میں ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ادارے شفٹ ورکرز کے لیے بہتر شیڈولنگ، مناسب آرام کے اوقات اور صحت کی سہولیات فراہم کریں۔ کچھ ممالک میں لیبر قوانین میں تبدیلیاں بھی زیر غور ہیں تاکہ ملازمین کو طویل المدتی صحتی خطرات سے بچایا جا سکے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کو متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور نیند کے بہتر معمول کو اپنانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً طبی معائنہ بھی ضروری ہے تاکہ ممکنہ بیماریوں کی بروقت تشخیص ہو سکے۔ موجودہ تحقیق نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ رات کی شفٹ کا کام صرف پیشہ ورانہ نہیں بلکہ صحت عامہ کا بھی اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead