پیر , اپریل 20 2026

مفتی عبدالقوی ویڈیو پر نیا تنازع

ریو پارٹی کی وائرل فوٹیج پر شدید ردعمل سامنے آگیا

پاکستانی مذہبی شخصیت Mufti Abdul Qavi کی ایک وائرل ویڈیو نے ملک بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہیں ایک ریو طرز کی پارٹی میں دیکھا گیا ہے۔

یہ ویڈیو 19 اپریل کو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں مفتی عبدالقوی ایک ہجوم کے درمیان کھڑے نظر آتے ہیں جہاں تیز میوزک بج رہا ہے اور لوگ رقص کر رہے ہیں۔ وہ سفید روایتی لباس اور ٹوپی میں ملبوس ہیں اور بظاہر صرف منظر کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

ویڈیو تیزی سے انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور ایکس پر وائرل ہوئی اور چند گھنٹوں میں ٹرینڈ بن گئی۔ صارفین نے مختلف ہیش ٹیگز کے ساتھ اسے شیئر کیا، جس کے بعد تنقید، طنز اور بحث کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

کئی صارفین نے مایوسی کا اظہار کیا اور سوال اٹھایا کہ ایک مذہبی رہنما ایسے ماحول میں کیسے موجود ہو سکتا ہے۔ کچھ دیگر افراد نے اس واقعے کو مزاحیہ انداز میں لیا اور میمز کے ذریعے ردعمل دیا۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کے بڑھتے استعمال نے ایسے واقعات کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق 2025 تک انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے عوامی ردعمل فوری اور وسیع ہو گیا۔

مفتی عبدالقوی ماضی میں بھی کئی تنازعات کا حصہ رہ چکے ہیں۔ وہ خاص طور پر Qandeel Baloch کے ساتھ تعلقات کے باعث خبروں میں آئے تھے، جس نے 2016 میں ایک بڑے سماجی مباحثے کو جنم دیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ پاکستانی معاشرے میں روایتی اقدار اور جدید طرز زندگی کے درمیان بڑھتے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں نوجوانوں میں جدید تفریحی سرگرمیوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔

گیلپ پاکستان کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق شہری نوجوانوں کی بڑی تعداد ڈیجیٹل اور تفریحی مواد سے جڑی ہوئی ہے، جس سے سماجی رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ایسے ماحول میں عوامی شخصیات کے طرز عمل پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

اب تک مفتی عبدالقوی کی جانب سے اس ویڈیو پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کی گئی ہو سکتی ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

کچھ سینئر مذہبی شخصیات نے اس معاملے پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات مذہبی قیادت پر عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل ماہرین کے مطابق پاکستان میں وائرل تنازعات ایک مخصوص انداز اختیار کر چکے ہیں، جہاں ویڈیو کے پھیلنے کے بعد فوری ردعمل آتا ہے اور وضاحت نہ ہونے کی صورت میں بحث طویل ہو جاتی ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ بدلتے ڈیجیٹل دور میں مذہبی اور عوامی شخصیات اپنی ساکھ کیسے برقرار رکھ سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مفتی عبدالقوی اس تنازع پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں اور یہ بحث کس سمت جاتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

Silver Scam: کسٹمز افسران معطل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سلور سویپ کیس میں ملوث آٹھ کسٹمز افسران کو معطل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے