
لاہور میں سرکاری ٹرانسپورٹ سے متعلق ایک نہایت افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک کمسن بچی پر مبینہ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سپیڈو بس سروس لاہور کی بس نمبر LHR EV-008 کے عملے پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک بچی کو بس میں چڑھنے کی کوشش کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ 21 اپریل 2026 کو رائے ونڈ روڈ لاہور کے قریب ایل ڈی اے اسٹاپ، چوہنگ جیابگا کے علاقے میں پیش آیا۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بس کا ایک اہلکار، جس کی شناخت سجاد کے نام سے ہوئی، بچی کو بازو سے پکڑ کر کھینچتا، دھکے دیتا اور بس کے دروازے کی جانب گھسیٹتا ہے۔ بچی مزاحمت کرتی نظر آتی ہے جبکہ اطراف میں شہری اور ٹریفک موجود ہوتے ہیں۔ اس منظر نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا اور عوامی حلقوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔
ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ انسپکٹر فہیم امداد کے مطابق چوہنگ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزم کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
ادھر پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے چیئرمین نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد یا ہراساں کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ واقعہ سرکاری ٹرانسپورٹ نظام میں مسافروں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔ اگرچہ پولیس کی فوری کارروائی نے ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے، تاہم عوامی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
UrduLead UrduLead