امریکی صدر نے ایران کو سخت دھمکی دیتے ہوئے مذاکراتی ٹیم پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا

امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ ان کے نمائندے کل شام اسلام آباد پہنچیں گے تاکہ اہم مذاکرات کا آغاز کیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کیا، جس میں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور خطے کی صورتحال پر بھی سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں فائرنگ کر کے سیزفائر کی خلاف ورزی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان غیر معمولی ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ گزرگاہ پہلے ہی محدود ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نادانستہ طور پر امریکا کے مفادات کو تقویت دے رہا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق بندرگاہوں کی بندش سے ایران کو یومیہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ امریکا کو اس صورتحال سے کوئی مالی نقصان نہیں پہنچ رہا۔ توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد راستہ ہے، اور اس میں رکاوٹ عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے، جیسا کہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نمائندے اسلام آباد میں کل شام تک موجود ہوں گے، جہاں ممکنہ طور پر علاقائی سکیورٹی اور سفارتی پیش رفت پر بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق امریکی ایڈوانس ٹیم پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہے، جو ان مذاکرات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعدد بحری جہاز اب امریکا کی ریاستوں ٹیکساس، لوزیانا اور الاسکا کا رخ کر رہے ہیں، جس کی وجہ پاسداران انقلاب کی سرگرمیاں ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق خلیجی کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ روٹس میں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، جس سے توانائی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ امریکا نے ایک “مناسب ڈیل” پیش کی ہے اور امید ظاہر کی کہ تہران اسے قبول کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو امریکا سخت کارروائی کرتے ہوئے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔
تاریخی طور پر امریکا اور ایران کے تعلقات 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سے کشیدہ رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں جوہری معاہدے اور پابندیوں کے معاملے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) اور دیگر اداروں کے مطابق پابندیوں کے باعث ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جس کی شرح نمو مسلسل منفی زون میں رہی ہے۔
علاقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا کردار اس تناظر میں اہم ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد ماضی میں بھی امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان سفارتی پل کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ موجودہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم فوجی آپشن بھی زیر غور ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں Donald Trump کے حالیہ بیانات آنے والے دنوں میں پالیسی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead