اتوار , اپریل 12 2026

ایران، امریکا مذاکرات آج اسلام آباد

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اہم مذاکرات آج اسلام آباد میں ہوں گے، جن کا مقصد کشیدگی کم کرکے دیرپا امن کی راہ ہموار کرنا ہے

وزیراعظم Shehbaz Sharif نے قوم سے خطاب میں کہا کہ ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود پاکستان کی دعوت پر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور دونوں ممالک کی قیادت آج براہ راست مذاکرات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے بجائے اب امن کی بات ہو رہی ہے اور یہ پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچا ہے جو آج وزیراعظم سے ملاقات کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق اگر ایرانی وفد کی پیشگی شرائط کو United States کی جانب سے قبول کرلیا گیا تو دوپہر کے وقت امریکی حکام کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔

ایرانی وفد میں وزیر خارجہ Abbas Araghchi سیاسی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر شامل ہیں جبکہ اقتصادی امور کی قیادت مرکزی بینک کے سربراہ Abdolnaser Hemmati کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی اور عسکری معاملات کے لیے ایڈمرل Ali Shamkhani شامل ہیں جبکہ قانونی امور کی نگرانی اسماعیل بقائی کر رہے ہیں۔

تقریباً 70 رکنی اس وفد میں 26 ماہرین پر مشتمل ٹیکنیکل اور خصوصی کمیٹیاں بھی شامل ہیں جو معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی امور پر فوری مشاورت فراہم کریں گی۔ اس کے علاوہ 23 رکنی میڈیا ٹیم، مترجمین، پروٹوکول افسران اور سیکیورٹی اہلکار بھی وفد کا حصہ ہیں، جو اس اہم سفارتی عمل کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں پاکستانی قیادت نے دونوں فریقوں کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک پہلے آمنے سامنے تھے اب مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن اب اصل چیلنج مستقل اور دیرپا امن کا قیام ہے جو ایک نازک مرحلہ ہے۔

انہوں نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ Ishaq Dar اور عسکری قیادت بالخصوص Asim Munir کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔

علاقائی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں اور سفارتی توازن کو متاثر کیا تھا۔ ایسے میں پاکستان کی ثالثی کوششیں نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان مختلف علاقائی تنازعات میں ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم ایران اور امریکا جیسے بڑے فریقین کو ایک میز پر لانا ایک بڑی سفارتی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو بے شمار قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے نتائج نہ صرف علاقائی امن بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ اگر پیش رفت برقرار رہی تو یہ عمل مستقبل میں وسیع تر سفارتی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے، جس میں پاکستان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر سکتا ہے، خاص طور پر ایران امریکا تعلقات میں بہتری کی صورت میں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اسرائیلی حملوں پر پاکستان کی شدید مذمت

پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری سیز فائر اور عالمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے