اتوار , اپریل 12 2026

حکومت نے پیٹرولیم قیمتیں کم کردیں

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا اور کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جبکہ پیٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 520 روپے سے کم ہوکر 385 روپے فی لیٹر مقرر ہوگئی ہے جبکہ پیٹرول کی نئی قیمت 378 روپے سے گھٹ کر 366 روپے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب مہنگائی میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا تو حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ان کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی نے حکومت کو موقع فراہم کیا کہ وہ عوام کو براہ راست فائدہ منتقل کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط اور حکومتی اقدامات کے ذریعے مہنگائی کو قابو میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 134 روپے 85 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 385 روپے 54 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں 11 روپے 83 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد نئی قیمت 366 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 17 روپے 33 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد یہ 450 روپے 15 پیسے فی لیٹر پر آگیا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 25 روپے 31 پیسے کمی کے بعد 369 روپے 72 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ نئی قیمتیں رات 12 بجے سے نافذ العمل ہوگئی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکومت نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے 129 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کیا۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی کٹائی کا موسم شروع ہو چکا ہے اور اس مرحلے پر کسانوں کے لیے لاگت کم کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ زرعی پیداوار متاثر نہ ہو۔ پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً 19 فیصد ہے جبکہ یہ ملک کی بڑی آبادی کو روزگار فراہم کرتی ہے، اس لیے ایندھن کی قیمتوں میں کمی کو زرعی لاگت کم کرنے کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، روپے کی قدر اور حکومتی ٹیکس پالیسیوں سے منسلک ہوتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق درآمدی بل میں تیل کا حصہ نمایاں ہے اور قیمتوں میں کمی سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران کمی دیکھی گئی ہے جسے توانائی مارکیٹ میں طلب اور رسد کے توازن سے جوڑا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خلیج میں کشیدگی کے بجائے امن کی باتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ممالک پہلے آمنے سامنے تھے اب مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ایران اور امریکا کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک ان کی دعوت پر اسلام آباد آئے اور بات چیت کے ذریعے پیش رفت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے اس نازک صورتحال میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کو عارضی جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے بھی باعث فخر ہے۔ انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا جبکہ فوجی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔

ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے ٹرانسپورٹ، خوراک اور صنعتوں کی لاگت میں کمی آ سکتی ہے جس سے مجموعی مہنگائی کی شرح پر دباؤ کم ہوگا۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی شرح بلند رہی ہے، تاہم توانائی قیمتوں میں کمی اسے نیچے لانے میں مدد دے سکتی ہے۔

حکومت کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام کی کوششوں میں مصروف ہے۔ توانائی قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کو اکثر مالیاتی نظم و ضبط کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، تاہم اس بار عالمی قیمتوں میں کمی نے حکومت کو ریلیف دینے کی گنجائش فراہم کی ہے۔

آئندہ ہفتوں میں عالمی تیل منڈی کے رجحانات اور مقامی ٹیکس پالیسی اس بات کا تعین کریں گے کہ پیٹرولیم قیمتوں میں کمی برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر قیمتیں مستحکم رہیں تو حکومت مزید ریلیف دینے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے، جس سے شہباز شریف حکومت کے لیے عوامی اعتماد بحال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

اسرائیلی حملوں پر پاکستان کی شدید مذمت

پاکستان نے لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری سیز فائر اور عالمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے