امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی، معاہدہ قریب ہے

امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے جاری بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک جلد کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بیان انہوں نے پرواز کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں دیا، جس میں انہوں نے خطے میں بڑھتی سفارتی سرگرمیوں کی نشاندہی کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے حالیہ اقدامات مثبت اشارہ دیتے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز سے جہازوں کی نقل و حرکت میں نرمی۔ ان کے مطابق ایران نے پاکستانی پرچم بردار تقریباً 20 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل کا راستہ ہے، جس کے بارے میں امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کی 2024 رپورٹ میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت اجاگر کی گئی ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی، جو بظاہر کشیدگی میں کمی کی علامت ہے۔ تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس بیان کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کئی مہینوں سے برقرار ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں غیر یقینی صورتحال کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ عالمی بینک کے 2025 اکنامک اپڈیٹ کے مطابق خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہے، جس سے عالمی مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک سخت بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے تیل کو قبضے میں لے سکتا ہے اور خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خارگ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی حب ہے، جہاں سے ملک کی بڑی مقدار میں خام تیل عالمی منڈیوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے بیانات ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ کو بڑھاتے رہے ہیں، خاص طور پر 2018 میں امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے بعد۔
امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں کیوبا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ جلد ناکام ہو جائے گا اور امریکا وہاں مدد کے لیے موجود ہوگا۔ کیوبا سے متعلق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لاطینی امریکا میں معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام پر عالمی توجہ بڑھ رہی ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق کیوبا کی معیشت گزشتہ دو برسوں سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔
دوسری جانب ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینکڑوں امریکی اسپیشل آپریشن فورسز مشرق وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جو خطے میں ممکنہ سیکیورٹی یا اسٹریٹجک اقدامات کی تیاری کی نشاندہی کرتی ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی حالیہ بریفنگز میں بھی خطے میں فوجی موجودگی بڑھانے کا عندیہ دیا گیا تھا، خاص طور پر ایران سے متعلق خطرات کے تناظر میں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل منڈی، خطے کی سیکیورٹی اور پاکستان سمیت ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک کی سفارتی اہمیت پر مرتب ہوں گے۔ پاکستان ماضی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان غیر رسمی رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جسے اس بار بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
موجودہ صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے ایک طرف سفارتی پیش رفت کی امید پیدا کی ہے، تو دوسری جانب سخت مؤقف نے غیر یقینی صورتحال کو بھی برقرار رکھا ہے، جس کا اثر آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی پالیسی اور عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead