پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے علاقائی تعاون، سیکیورٹی اور تجارت کے فروغ پر بات چیت شروع کی

پاکستان، Saudi Arabia، Türkiye اور Egypt کے وزرائے خارجہ نے اتوار کو اسلام آباد میں چار ملکی مشاورتی اجلاس کا آغاز کیا، جس کا مقصد علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس کی میزبانی Pakistan نے کی، جہاں اعلیٰ سطح کے وفود نے شرکت کی اور بدلتی ہوئی علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ Ishaq Dar نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور اقتصادی روابط مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ ہے۔
حکام کے مطابق مذاکرات میں مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشت گردی، اور بحری سلامتی جیسے اہم امور زیر غور آئے۔ اس کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
یہ مشاورت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطے میں تیزی سے جغرافیائی و سیاسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ سعودی عرب اور ترکیہ حالیہ برسوں میں تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ مصر خطے میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور پر غزہ اور بحیرہ احمر کے معاملات میں۔
پاکستان کے لیے یہ اجلاس معاشی سفارتکاری کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق ان ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں علاقائی روابط کو بہتر بنانے، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس تعاون بڑھانے، اور توانائی کے طویل مدتی معاہدوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ پاکستان خاص طور پر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور سپلائی کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے۔
چاروں ممالک مجموعی طور پر بڑی آبادی اور اہم اقتصادی حیثیت رکھتے ہیں، جس سے یہ پلیٹ فارم علاقائی ہم آہنگی کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے فورمز مشترکہ حکمت عملی بنانے اور عالمی سطح پر مؤثر آواز اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔
اگرچہ اجلاس کے فوری بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکام نے مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا ہے۔ آئندہ دنوں میں مزید اجلاسوں اور تکنیکی سطح پر مشاورت جاری رہنے کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی یہ مشاورت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ Pakistan خطے میں سفارتی مرکز کے طور پر اپنا کردار مضبوط بنانا چاہتا ہے اور ایسے اقدامات اس کی خارجہ پالیسی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead