اتوار , مارچ 8 2026

درخت کٹائی کے باوجود پولن لیول بدستور بلند

اسلام آباد میں پولن کی مقدار بدستور انتہائی بلند ہے کیونکہ پیپر ملبری کے ہزاروں درخت ابھی باقی ہیں اور مارچ کے وسط میں پولن کا موسم اپنے عروج پر ہے۔

اسلام آباد میں پولن کی مقدار اتوار 8 مارچ 2026 کو بھی انتہائی بلند سطح پر رہی، حالانکہ حکومت کی جانب سے پیپر ملبری کے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی جاری ہے، کیونکہ موسم بہار کے عروج کے دوران باقی رہ جانے والے درخت اب بھی بڑی مقدار میں پولن خارج کر رہے ہیں۔

Pakistan Meteorological Department کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 7 مارچ کو ایچ-8 اسٹیشن پر پولن کی مجموعی مقدار 22,190 دانے فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جس میں سے 21,965 دانے صرف پیپر ملبری کے تھے۔ محکمہ موسمیات کے معیار کے مطابق 15 ہزار سے زیادہ مقدار کو “انتہائی بلند” درجہ دیا جاتا ہے، جو شدید الرجی اور دمہ کے مریضوں کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے۔

یہ بلند سطح اس وقت بھی برقرار ہے جب کہ Capital Development Authority اسلام آباد میں پیپر ملبری کے درخت ختم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ حکام نے پارلیمانی بریفنگ میں بتایا تھا کہ شہر بھر میں تقریباً 80 ہزار درختوں کی نشاندہی کی گئی، تاہم 2026 کے آغاز تک صرف 29 سے 30 ہزار درخت ہی کاٹے جا سکے، جس کے باعث بڑی تعداد میں بالغ درخت اب بھی مختلف سیکٹرز، پارکوں اور گرین بیلٹس میں موجود ہیں۔

پیپر ملبری کا درخت 1960 کی دہائی میں تیزی سے شجرکاری کے لیے لگایا گیا تھا، مگر بعد میں یہی درخت اسلام آباد میں بہار کے موسم کی الرجی کی سب سے بڑی وجہ بن گیا۔ طبی ماہرین کے مطابق اس درخت کے نر پودے بہت زیادہ مقدار میں ہلکا پولن خارج کرتے ہیں جو ہوا کے ساتھ کئی کلومیٹر دور تک پھیل جاتا ہے، اس لیے جزوی کٹائی کے باوجود فوری طور پر پولن کی سطح کم نہیں ہوتی۔ محکمہ موسمیات کے موسمی ریکارڈ کے مطابق مارچ میں مجموعی پولن کا 94 سے 97 فیصد حصہ صرف پیپر ملبری سے آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مارچ کا دوسرا اور تیسرا ہفتہ عام طور پر پولن کے اخراج کا عروج ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بارش نہ ہونے، درجہ حرارت 30 سے 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے اور ہلکی ہوا چلنے کی وجہ سے پولن فضا میں زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے۔ گھاس اور چیڑ کے درخت بھی پولن پیدا کرتے ہیں، مگر ان کا حصہ مجموعی مقدار میں نسبتاً کم ہوتا ہے۔

حکام کے مطابق درختوں کی کٹائی مرحلہ وار کی جا رہی ہے تاکہ ماحول پر منفی اثر کم ہو اور ساتھ ہی متبادل شجرکاری کی جا سکے۔ ابتدائی مرحلے میں ایف-9 پارک، شکرپڑیاں، ایچ-8، ایچ-9 اور زیرو پوائنٹ کے قریب گرین بیلٹس کو ترجیح دی گئی، جہاں پولن کی مقدار سب سے زیادہ ریکارڈ ہوتی رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئے درختوں میں پیپل، املتاس اور کچنار جیسے مقامی اور کم الرجی پیدا کرنے والے پودے لگائے جا رہے ہیں۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی مرحلے کی کٹائی کے بعد الرجی کے مریضوں میں کچھ کمی آئی ہے۔ سرکاری بریفنگ کے مطابق اسلام آباد میں موسمی الرجی کے مریضوں کی تعداد 2023 میں 2300 سے زائد تھی جو 2025 میں کم ہو کر تقریباً 1031 رہ گئی، جبکہ شرح 45.8 فیصد سے کم ہو کر 33.3 فیصد تک آ گئی۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مکمل فائدہ اس وقت ہوگا جب زیادہ تر بالغ پیپر ملبری درخت جڑوں سمیت ختم کر دیے جائیں گے تاکہ دوبارہ افزائش نہ ہو۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق متبادل درختوں کو مکمل طور پر بڑھنے میں کئی سال لگیں گے، اس لیے قلیل مدت میں ہر سال بلند پولن سیزن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بعض شہری منصوبہ سازوں نے کٹائی کے طریقہ کار پر تنقید بھی کی، لیکن حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی صرف اسی درخت کے خلاف کی جا رہی ہے جو اسلام آباد میں شدید الرجی کا بنیادی سبب بن چکا ہے۔

Pakistan Meteorological Department کے مطابق پولن کا موسم عام طور پر اپریل کے وسط تک جاری رہتا ہے، تاہم بارش یا تیز ہوا کی صورت میں عارضی کمی آ سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ 2026 کے دوران باقی پیپر ملبری درخت ختم کرنے کا ہدف ہے تاکہ آئندہ برسوں میں اسلام آباد پولن کی سطح مستقل طور پر کم کی جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

بحریہ ٹاؤن عہدیدار کو منی لانڈرنگ میں 10 سال قید

اسلام آباد کی عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے سینئر ایگزیکٹو خلیل الرحمان کو تقریباً 1.6 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے