اتوار , مارچ 8 2026

بحریہ ٹاؤن عہدیدار کو منی لانڈرنگ میں 10 سال قید

اسلام آباد کی عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے سینئر ایگزیکٹو خلیل الرحمان کو تقریباً 1.6 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے جرم میں 10 سال قید اور 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

اسلام آباد کی ایک عدالت نے بحریہ ٹاؤن کے سینئر ایگزیکٹو ریٹائرڈ کرنل خلیل الرحمان کو منی لانڈرنگ کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ عدالت نے مجرم پر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں مزید چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

ایڈیشنل سیشن جج (ویسٹ) نصر من اللہ بلوچ نے 7 مارچ کو اسلام آباد میں فیصلہ سنایا۔ عدالت نے خلیل الرحمان کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت مجرم قرار دیا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 19/2025 کے تحت درج کیا گیا تھا جو 7 اگست 2025 کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد میں درج ہوا تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم پر تقریباً 1.6 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ثابت ہوئی۔ استغاثہ کے مطابق یہ رقوم غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورکس کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئیں۔ تفتیشی حکام نے عدالت کو بتایا کہ یہ مالی لین دین 2007 سے مختلف مراحل میں جاری رہا۔

ایف آئی اے کے مطابق منتقل کی گئی رقوم بعد ازاں بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کی خریداری میں استعمال ہوئیں۔ تحقیقات میں کہا گیا کہ ملزم نے پیچیدہ مالی لین دین اور تیسرے فریق کے ذریعے رقوم کے اصل ذرائع چھپانے کی کوشش کی۔ عدالت نے اس عمل کو منظم مالی جرم قرار دیا جس میں رقوم کے اصل ماخذ کو چھپانے کے لیے مختلف پرتوں پر مبنی لین دین استعمال کیا گیا۔

عدالت نے سنٹرل جیل راولپنڈی کے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا کہ ملزم کو تحویل میں لے کر سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔ عدالت نے سزا سناتے وقت فوجداری ضابطہ کی دفعہ 382 کے تحت بعض قانونی رعایتیں بھی فراہم کیں۔

خالد الرحمان بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ میں وائس چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن پاکستان کی بڑی نجی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین نے رکھی تھی اور یہ ملک کے مختلف شہروں میں بڑے رہائشی منصوبے چلاتی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارہ حالیہ برسوں میں مالیاتی جرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کر چکا ہے۔ حکومتی اداروں کے مطابق غیر قانونی مالی ترسیلات اور غیر دستاویزی سرمایہ کاری پاکستان کی معیشت کے لیے بڑا چیلنج رہی ہے۔ اسی تناظر میں اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کو سخت کیا گیا۔

پاکستان نے عالمی مالیاتی نظام کے تقاضوں کے مطابق منی لانڈرنگ کے خلاف قوانین کو مضبوط بنایا۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے بعد متعدد ترامیم کی گئیں تاکہ عالمی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معیارات سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ اس کے بعد بینکاری اور مالیاتی اداروں کو مشکوک لین دین کی رپورٹنگ لازمی قرار دی گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی حالیہ برسوں میں بینکنگ نگرانی کے نظام کو مزید سخت کیا۔ بینکوں کو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ذریعے مشکوک مالی لین دین کی اطلاع دینا لازمی ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد غیر قانونی سرمائے کی بیرون ملک منتقلی کو روکنا ہے۔

پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو طویل عرصے سے شفافیت کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جائیداد کے شعبے میں بڑی مقدار میں غیر دستاویزی سرمایہ کاری ہوتی رہی ہے۔ اسی وجہ سے حکومت نے حالیہ برسوں میں جائیداد کی ویلیوایشن اور ٹیکس رپورٹنگ کے قوانین سخت کیے۔

یہ مقدمہ بحریہ ٹاؤن سے متعلق وسیع تر تحقیقات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے عدالت نے اسی کیس میں کئی ملزمان کو چالان کی نقول فراہم کی تھیں۔ بعض افراد بشمول ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کو متعلقہ مقدمات میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالتیں بڑے مالیاتی جرائم کے مقدمات میں سخت رویہ اختیار کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ مقدمہ پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مالی شفافیت اور احتساب کے حوالے سے اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایرانی صدر کا ہمسایہ ممالک پر حملے روکنے کا اعلان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا کہ ایران اب ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے