ہفتہ , جنوری 31 2026

شمسی نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے شمسی نیٹ میٹرنگ صارفین، یعنی پروزیومرز، کو دیے جانے والے مالی فوائد میں کمی کی تجاویز پر عوامی سماعت طلب کر لی ہے۔ یہ سماعت 6 فروری 2026 کو ہوگی، جس میں شہریوں، سرکاری اداروں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اپنی آرا پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔

نیپرا کی جانب سے جاری عوامی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سستی بجلی کی محدود دستیابی اور تقسیم کار کمپنیوں کی مسلسل کمزور کارکردگی نے بجلی کے شعبے کے مالی ڈھانچے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اس تناظر میں ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ پروزیومرز کو دیے جانے والے فوائد میں رد و بدل کر کے یوٹیلیٹیز اور عام صارفین کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

اتھارٹی نے ڈرافٹ پروزیومر ریگولیشنز 2025 جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت 2015 کے الٹرنیٹو اینڈ رینیوایبل انرجی ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اینڈ نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قواعد کے مطابق اب کوئی بھی صارف اپنے منظور شدہ بجلی لوڈ سے زیادہ گنجائش کا سولر سسٹم نصب نہیں کر سکے گا۔ اس طرح سسٹم سائز کی حد مؤثر طور پر 50 فیصد تک کم ہو جائے گی۔ مثال کے طور پر 10 کلوواٹ کنکشن رکھنے والا صارف اب زیادہ سے زیادہ 10 کلوواٹ کا سولر سسٹم لگا سکے گا، جبکہ موجودہ قوانین کے تحت 15 کلوواٹ تک اجازت ہے۔

نیپرا نے واضح کیا ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ صارفین اپنے سات سالہ معاہدے کی مدت پوری ہونے تک پرانے قوانین کے تحت ہی کام کرتے رہیں گے، تاہم نئے کنکشنز اور معاہدے نئی شرائط کے مطابق ہوں گے۔ مجوزہ ریگولیشنز ایک کلوواٹ سے ایک میگاواٹ تک کے تمام سسٹمز پر لاگو ہوں گی، جبکہ 25 کلوواٹ تک کے سسٹمز کی نگرانی بدستور براہ راست نیپرا کرے گا۔

معاہدے کی مدت بھی سات سال سے کم کر کے پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کی بعد ازاں تجدید صارف اور تقسیم کار کمپنی کے باہمی اتفاق سے ممکن ہوگی۔

سب سے اہم تبدیلی اضافی بجلی کی قیمت سے متعلق ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت صارفین کو گرڈ میں دی جانے والی اضافی بجلی پر قومی اوسط انرجی پرچیز پرائس کے مطابق ادائیگی کی جائے گی، جو اس وقت تقریباً 13 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔ اس کے برعکس موجودہ نظام میں صارفین کو تقریباً 26 روپے فی یونٹ تک کریڈٹ مل رہا ہے۔

اسی طرح بلنگ سسٹم کو بھی نیٹ میٹرنگ سے بدل کر نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے۔ اس ماڈل کے تحت صارف گرڈ سے لی گئی بجلی پر مکمل ریٹ ادا کرے گا، جبکہ برآمد کی گئی بجلی کی قیمت قومی اوسط نرخ پر کریڈٹ کی صورت میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔ اضافی کریڈٹ کو اگلے بل میں منتقل یا سہ ماہی بنیادوں پر سیٹل کیا جا سکے گا۔

نیپرا نے اعتراف کیا ہے کہ تقسیم کار کمپنیوں کی سروس کوالٹی تسلی بخش نہیں رہی، جبکہ ٹیکسز، لیویز اور سرچارجز نے بجلی کی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اسی وجہ سے صارفین تیزی سے آف گرڈ اور ڈی سینٹرلائزڈ توانائی حل کی طرف جا رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق آن گرڈ سولر تنصیبات کی مجموعی صلاحیت 6 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ آف گرڈ سسٹمز سمیت ملک میں مجموعی سولر صلاحیت 13 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں طلب میں کمی اور رات میں اچانک اضافے نے گرڈ کے لیے نئے تکنیکی اور مالی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ غروب آفتاب کے بعد بجلی کی پیداوار فوری طور پر بڑھانا اور دن میں کم کرنا نظام پر اضافی دباؤ ڈال رہا ہے۔

ریگولیٹر کے مطابق نئی ریگولیشنز کے ذریعے واضح طریقہ کار، سخت تکنیکی معیارات اور بہتر بلنگ نظام متعارف کروا کر چھوٹے پیمانے کی قابل تجدید توانائی کو قومی گرڈ میں مؤثر انداز میں شامل کیا جائے گا تاکہ نظام کا استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا: آج دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کا دوسرا مقابلہ آج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے