
آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی شرکت اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ بنگلہ دیش کو سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بھارت میں میچز نہ کھیلنے پر ٹورنامنٹ سے باہر کرنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سخت موقف اپنایا ہے۔
چیئرمین پی سی بی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ پی سی بی آئی سی سی کے دوہرے معیار کو مسترد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ ناانصافی کی گئی ہے، ایک ملک کو ہر چیز کی اجازت ہے جبکہ دوسروں کے ساتھ بالکل برعکس رویہ اپنایا جاتا ہے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ پاکستان کی شرکت کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور پی سی بی حکومت کے ہدایات پر مکمل عمل کرے گا۔اس حوالے سے آج چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات متوقع ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ صورتحال پر مکمل غور کیا جا سکے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ مشاورتی عمل جاری ہے اور جو بھی فیصلہ ہوگا، عوام کو اس سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب، پی سی بی نے ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے 15 رکنی قومی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس اعلان کے باوجود شرکت کا سوال برقرار ہے۔ ٹیم کا اعلان کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان ضرور ٹورنامنٹ میں حصہ لے گا، بلکہ یہ فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے۔
قومی ٹیم کے اعلان کردہ کھلاڑیوں کی فہرست میں سلمان علی آغا (کپتان)، ابرار احمد، بابر اعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، خواجہ محمد نا فع (وکٹ کیپر)، محمد نواز، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان، عثمان خان (وکٹ کیپر) اورعثمان طارق شامل ہیں۔
یہ ٹیم حالیہ حالات میں منتخب کی گئی ہے، جس میں بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی کی واپسی قابل ذکر ہے، جبکہ کچھ اہم کھلاڑیوں جیسے محمد رضوان اور حارث رؤف کو شامل نہیں کیا گیا۔
کھلاڑیوں نے چیئرمین محسن نقوی سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پی سی بی اور حکومت کے کسی بھی فیصلے کی مکمل حمایت کریں گے۔
ٹورنامنٹ کا آغاز فروری 2027 میں متوقع ہے (بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ میزبانی)، جہاں پاکستان کے میچز زیادہ تر سری لنکا میں شیڈول ہیں۔
UrduLead UrduLead