
وفاقی وزیر پاور و توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیپرا کی حالیہ رپورٹ کو ناقص، تاخیر کا شکار اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ نے پاور سیکٹر کی اصل صورتحال پیش نہیں کی اور اس سے غیر ضروری غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران اویس لغاری نے کہا کہ نیپرا کی رپورٹ اگست 2025 میں جاری ہونی چاہیے تھی، مگر تاخیر اور ناکافی ڈیٹا کے باعث یہ رپورٹ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں حکومتی اصلاحات، اہداف کے حصول اور مالی بہتری کو نظرانداز کیا گیا، جو ریگولیٹر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
وفاقی وزیر نے نیپرا کی جانب سے سرکلر ڈیٹ میں 780 ارب روپے کمی سے متعلق اعداد و شمار کو بھی غلط قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس کمی میں ڈسکوز کے 193 ارب روپے نقصانات، آئی پی پیز سے مذاکرات کے نتیجے میں 260 ارب روپے کی بچت اور میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری سے حاصل ہونے والے 300 ارب روپے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام تفصیلات نیپرا کو فراہم کی جا چکی تھیں، اس کے باوجود لاعلمی حیران کن ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ میں کسی بھی سطح پر اضافہ نہیں ہوا بلکہ پہلی بار اس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ان کے مطابق سرکلر ڈیٹ 2.4 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 1.6 ٹریلین روپے پر آ گیا ہے، جبکہ اس کے مکمل خاتمے کے لیے چھ سالہ منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈسکوز کی وصولیوں میں بہتری کو نظرانداز کرنے پر بھی نیپرا کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025 میں ڈسکوز کی وصولیاں 92.4 فیصد سے بڑھ کر 96.6 فیصد تک پہنچ گئیں۔ ان کے مطابق وصولیوں کا فرق 315 ارب روپے سے کم ہو کر 132 ارب روپے رہ گیا، جس سے 183 ارب روپے کی بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی چھ ماہ میں بھی بہتری کا تسلسل برقرار رہا اور گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 43 ارب روپے زائد وصولیاں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی محکموں سے واجبات کی وصولی کے لیے وفاقی ایڈجسٹر کے ذریعے تصدیق شدہ بلوں پر 25 فیصد وصولی کا مؤثر نظام نافذ کیا گیا ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ ڈسکوز کی نااہلیوں کا بوجھ نہ تو صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے اور نہ ہی یہ سرکلر ڈیٹ کا حصہ بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان نقصانات کو اپنے وسائل سے پورا کر رہی ہے اور اصلاحات کے ذریعے نااہلیوں میں بتدریج کمی لائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مارچ 2024 میں بجلی کی قومی اوسط قیمت 53.04 روپے فی یونٹ تھی، جو دسمبر 2025 میں کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی طلب میں کمی کے عوامل، بشمول معاشی دباؤ اور متبادل توانائی ذرائع کے استعمال، سے بخوبی آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کے لیے تین سالہ مراعاتی پیکجز، ٹیرف کی ازسرنو بات چیت اور قرضوں کی ری فنانسنگ جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نیپرا کے ڈیٹ سروس سرچارج سے متعلق مؤقف کو بھی حقائق کے منافی قرار دیا اور کہا کہ یہ سرچارج برسوں سے نافذ تھا، جس سے پہلے صرف سود ادا ہوتا تھا، مگر موجودہ حکومت نے اسی ذریعے سے اصل قرض کی ادائیگی ممکن بنائی، جو پانچ سے چھ سال میں مکمل ہو جائے گی۔
اویس لغاری نے کے الیکٹرک پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا کی رپورٹ میں کمپنی کو سرکلر ڈیٹ میں اضافے سے بری الذمہ قرار دینا سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2023 تک کے الیکٹرک کی عدم ادائیگیوں سے سرکلر ڈیٹ میں 640 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ 30 نومبر 2025 تک کمپنی کے ذمے 300 ارب روپے سے زائد واجبات موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کو نرم ریگولیٹری اہداف دیے، جس کے نتیجے میں کمپنی نے گزشتہ پانچ برسوں میں 600 ارب روپے سے زائد سبسڈی حاصل کی، جو قومی خزانے اور عوام پر اضافی بوجھ بنی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹ سروس سرچارج کے الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز کی نااہلیوں کے باعث عائد کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں نیپرا نے بغیر مربوط مطالعات کے مہنگی بجلی کے منصوبوں کی منظوری دی، جس کے اثرات آج صارفین بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے میرٹ پر فیصلے کرتے ہوئے آئندہ کے 8 ہزار میگاواٹ کے مہنگے منصوبے ختم کیے، جن سے ملک کو 17 ارب ڈالر سے زائد بچت متوقع ہے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں جامع ڈیجیٹلائزیشن کر رہی ہے، جس کے تحت 1.6 ملین سمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں اور ان کی مواصلاتی دستیابی 90 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین کو “اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ کے ذریعے خود ریڈنگ کا اختیار دیا گیا ہے اور بلنگ کی مد میں 40 ارب روپے کی واپسی ممکن بنائی گئی ہے، جس پر نیپرا کو حکومت کی کارکردگی کو سراہنا چاہیے تھا۔
UrduLead UrduLead