
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی سالانہ رپورٹ ”اسٹیٹ آف انڈسٹری 2025“ جاری کر دی ہے جس میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) مقررہ نقصانات کے ہدف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ صرف ایک کمپنی، ٹیسکو (تریبل ایریاز الیکٹرک سپلائی کمپنی) ہی اپنا ہدف پورا کرنے میں کامیاب رہی جبکہ باقی تمام ڈسکوز کم نقصانات کے ہدف سے دور رہیں۔
نیپرا نے انکشاف کیا کہ ڈسکوز کے نقصانات کی وجہ سے گردشی قرض (سرکلر ڈیٹ) میں ایک سال کے دوران 397 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں خاص طور پر کے الیکٹرک، پیسکو، حیسکو، سیپکو اور کیسکو کی کارکردگی کو انتہائی ناقص قرار دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں طویل لوڈشیڈنگ، کم وصولیاں، بڑھتے واجبات اور نئے کنکشنز، میٹرز کی تنصیب اور نیٹ میٹرنگ کنکشنز میں تاخیر جیسے مسائل سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاور سیکٹر میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی عدم موجودگی پلاننگ اور فیصلہ سازی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ لاگ رپورٹس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ترسیلی نظام (ٹرانسمیشن سسٹم) کا مکمل جائزہ لینا ممکن نہیں ہو سکا۔
نیپرا نے بتایا کہ تھر کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو بھی کم استعمال کیا گیا اور انہیں صرف 23 سے 67 فیصد صلاحیت پر چلایا گیا۔ اسی طرح لاہور-مٹیاری 4000 میگاواٹ کی اہم ٹرانسمیشن لائن کو محض 35 فیصد تک استعمال کیا گیا جبکہ اس کی ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیک اینڈ پے (Take or Pay) کے تحت بجلی کی پیداواری پلانٹس کا استعمال بھی کم رہا جس کی وجہ سے کپیسٹی پیمنٹس میں غیر ضروری اضافہ ہوا۔ بجلی کی ترسیل کے تقریباً تمام منصوبے تاخیر کا شکار ہیں اور پاور سیکٹر میں گورننس کے شدید مسائل موجود ہیں۔
نیپرا نے خبردار کیا ہے کہ پاور سیکٹر میں ترقی کی رفتار انتہائی محدود رہی ہے اور شعبے میں سرکاری کمپنیوں کے انتظامی مسائل نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔
یہ رپورٹ پاکستان کے پاور سیکٹر کی موجودہ حالت کا آئینہ دار ہے جس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو گردشی قرضہ مزید بڑھے گا اور بجلی کی قیمتیں عام آدمی کے لیے مزید ناقابل برداشت ہو جائیں گی۔
UrduLead UrduLead