
صحت مند غذا کینسر جیسی سنگین بیماریوں سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مختلف سبزیوں میں موجود قدرتی مرکبات، اینٹی آکسیڈنٹس، فائبر اور دیگر غذائی اجزاء کینسر کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے یا سست کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگرچہ کوئی بھی سبزی اکیلی کینسر کا علاج یا مکمل روک تھام نہیں کر سکتی، لیکن متوازن غذا میں انہیں شامل کرنے سے مجموعی خطرہ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔یہاں چند اہم سبزیاں ہیں جو سائنسی تحقیقات کے مطابق کینسر سے تحفظ فراہم کرنے میں معاون ہیں
گوبھی اور بروکولی
گوبھی اور بروکولی جیسی مصلوب سبزیاں گوبھی میں سلفورافین نامی طاقتور مرکب پایا جاتا ہے جو کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روک سکتا ہے۔ یہ خاص طور پر چھاتی، بڑی آنت (کولوریکٹل)، پھیپھڑوں اور پروسٹیٹ کینسر کے خلاف فائدہ مند سمجھی جاتی ہے۔ بروکولی اور دیگر مصلوب سبزیاں بھی اسی طرح کے فوائد رکھتی ہیں۔
پالک اور دیگر گہری ہری پتوں والی سبزیاں
پالک، کیل اور دیگر ہری سبزیاں فولک ایسڈ، فائبر، وٹامنز (A، C، K) اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ یہ پیٹ، آنتوں، چھاتی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہفتے میں کم از کم 2-3 سرونگز ضرور استعمال کی جائیں۔
ٹماٹر
ٹماٹر میں لائکوپین نامی اینٹی آکسیڈنٹ ہوتا ہے جو خاص طور پر پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کرنے سے منسلک ہے۔ اس کے علاوہ یہ منہ، پھیپھڑوں اور معدے کے کینسر سے بھی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ پکا ہوا ٹماٹر لائکوپین کی مقدار بڑھاتا ہے، اس لیے ساس یا پکے ہوئے استعمال میں فائدہ زیادہ ہے۔
لہسن اور پیاز
ان میں گندھک (سلفر) کے مرکبات پائے جاتے ہیں جو معدے، آنتوں اور قولون کینسر سے بچاؤ میں معاون ہیں۔ لہسن کو کچلا یا کاٹ کر کچھ دیر رکھنے سے اس کے فعال اجزاء زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق ان کا باقاعدہ استعمال کینسر کے خطرے کو 50-79 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
گاجر
گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتی ہے جو جسم میں وٹامن A میں تبدیل ہوتی ہے۔ یہ پھیپھڑوں، جلد، منہ اور گردن کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہے۔ نارنجی رنگ کی دیگر سبزیاں جیسے شکرقندی بھی اسی طرح فائدہ مند ہیں۔
شملہ مرچ (گھنٹی مرچ)
شملہ مرچ وٹامن سی اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہے جو خلیات کو فری ریڈیکلز کے نقصان سے بچاتی ہے۔ یہ مجموعی طور پر مدافعتی نظام کو مضبوط کر کے کینسر کے خلاف لڑنے میں مدد دیتی ہے۔
چقندر (بیٹ روٹ)
چقندر میں بیٹالینز نامی اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جو جگر، آنتوں اور دیگر اعضاء کی صحت کے لیے مفید ہیں۔ یہ جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کی روک تھام کے لیے سبزیوں کو روزانہ کی خوراک کا اہم حصہ بنائیں، تازہ اور کم پروسیسڈ استعمال کریں۔
متوازن غذا کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی سے پرہیز، جسمانی سرگرمی اور وزن کنٹرول بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر آپ کو خاندانی تاریخ یا دیگر عوامل کی وجہ سے خطرہ زیادہ ہے تو ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے مشورہ ضرور کریں۔صحت بخش غذا سے کینسر کے 30-40 فیصد کیسز کی روک تھام ممکن ہے!
UrduLead UrduLead