
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گیس سیکٹر کے گردشی قرض کا فلو زیرو کر دیا گیا ہے جبکہ نائب وزیراعظم کی سربراہی میں گردشی قرض کے مکمل خاتمے کے لیے کمیٹی قائم کی جا چکی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے بتایا کہ ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کا معاملہ ثالثی عدالت میں زیر سماعت ہے اور مقامی ایندھن کے وسائل کو فروغ دینا حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری دی تھی مگر وزیراعظم کی ہدایت پر گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جا رہا۔
وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ ناقص معیار کا تیل فروخت کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کو ڈی ریگولیشن سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
گیس گردشی قرض کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گردشی قرض کا فلو زیرو ہے اور یہ قرض بنیادی طور پر تین سرکاری گیس پیداواری کمپنیوں کو ادا کیا جانا ہے۔ لیٹ پیمنٹ سرچارجز کے علاوہ گردشی قرض تقریباً 1500 ارب روپے کے قریب ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم ظفر عباس نے بریفنگ میں بتایا کہ آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے لیے انڈسٹری سے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے۔
قطر سے ماہانہ 2 اور اطالوی انرجی کمپنی سے 3 ایل این جی کارگوز عالمی مارکیٹ میں منتقل کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اب ماہانہ 10 کی بجائے صرف 7 کارگوز درآمد کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ گیس سیکٹر میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور عوام کو جلد مزید ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
UrduLead UrduLead