
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز میں نوجوانوں کی صحت کو ویپنگ اور الیکٹرانک سگریٹ کے بڑھتے استعمال سے بچانے کے لیے اہم اقدامات زیر غور آئے ہیں۔
سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کردہ ‘پرہیبیشن آف سموکنگ اینڈ پروٹیکشن آف نان سموکرز ہیلتھ (ترمیمی) بل 2025’ اور ‘الیکٹرانک نکوٹین ڈیلیوری سسٹمز (ریگولیشن) بل 2025’ میں ویپنگ پر سخت ضوابط اور سزاؤں کی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
بل کے مطابق، 18 سال سے کم عمر افراد کو ویپ، ای سگریٹ یا دیگر الیکٹرانک نکوٹین مصنوعات کی فروخت مکمل طور پر ممنوع قرار دی جائے گی اور یہ جرم تصور کیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں کے 50 میٹر کے دائرے میں ویپ کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے گی جبکہ عوامی مقامات، پارکس، سرکاری دفاتر اور عوامی ٹرانسپورٹ میں ویپنگ کو ممنوع قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل میں سوشل میڈیا، ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع پر ویپ کی تشہیر، پروموشن اور سپانسرشپ پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ نکوٹین کی مقدار کو 40 ملی گرام فی ملی لیٹر تک محدود کرنے، پیکیجنگ پر صحت کے لیے نقصان دہ ہونے کی وارننگ لازمی قرار دینے اور آن لائن فروخت کے لیے عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں، جن میں پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے جرمانہ، دوسری پر 100 ہزار اور تعلیمی اداروں کے قریب خلاف ورزی پر 200 ہزار سے 500 ہزار روپے تک جرمانہ شامل ہے۔
غیر معیاری ای لیکویڈ کی اسمگلنگ اور فروخت پر بھی بھاری جرمانے عائد کرنے کا کہا گیا ہے۔وزارت صحت نے بل کے نفاذ کے لیے جامع پلان تیار کیا ہے جس کے تحت ویپ کو روایتی سگریٹ کے برابر قرار دے کر اس پر یکساں پابندیاں لگائی جائیں گی۔
کمیٹی ارکان نے نوجوانوں میں ویپنگ کے بڑھتے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔یہ بلز اب متعلقہ کمیٹیوں میں مزید غور کے مراحل میں ہیں اور ان کی منظوری سے پاکستان میں ویپنگ کی ریگولیشن کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
UrduLead UrduLead