
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے اپنی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بورڈ نے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اور ویلفیئر کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے تمام میچز بھارت سے باہر کسی مقام، ترجیحاً سری لنکا، منتقل کرنے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
یہ فیصلہ مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل 2026 سے اچانک اخراج کے بعد سامنے آیا، جہاں بی سی سی آئی کی ہدایات پر کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلر کو ریلیز کر دیا۔
بی سی بی کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور حالیہ واقعات کی وجہ سے کھلاڑیوں کی بھارت میں حفاظت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
بی سی بی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا: “حالیہ صورتحال کا جائزہ لینے اور بنگلہ دیش حکومت کی مشاورت کے بعد بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں قومی ٹیم بھارت نہیں جائے گی۔ اس سلسلے میں آئی سی سی سے تمام میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
“موجودہ شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش کے گروپ مرحلے کے تمام چار میچز بھارت میں شیڈول ہیں، جن میں سے تین کولکتہ (ایڈن گارڈنز) اور ایک ممبئی (وانکھیڑے اسٹیڈیم) میں کھیلے جانے ہیں۔ بنگلہ دیش کا پہلا میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ہے۔ ٹورنامنٹ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 7 فروری سے 8 مارچ تک ہو گا، جہاں پاکستان کے تمام میچز پہلے سے سری لنکا میں شیڈول ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی سی سی اس درخواست پر غور کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کی سیکیورٹی کو ترجیح دیتے ہوئے سری لنکا منتقل کرنے کا امکان موجود ہے۔ تاہم اتوار کی چھٹی کی وجہ سے اجلاس نہیں ہو سکا، مگر آئندہ چند دنوں میں حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
بنگلہ دیش کے مشیرِ کھیل آصف نذرول نے کہا کہ اگر ایک بنگلہ دیشی کرکٹر کنٹریکٹ کے باوجود بھارت میں نہیں کھیل سکتا تو پوری ٹیم کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بی سی بی کو ہدایت دی کہ آئی سی سی سے میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی جائے۔
یہ تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی کا شاخسانہ ہے، جو حالیہ واقعات سے مزید بڑھ گئی ہے۔ اگر درخواست منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کے بعد بنگلہ دیش دوسری ٹیم ہو گی جس کے میچز بھارت سے باہر منتقل کیے جائیں گے۔
آئی سی سی کی جانب سے جلد جواب کا انتظار ہے، جبکہ ٹورنامنٹ کی تیاریاں جاری ہیں۔کرکٹ شائقین اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ سیاست کھیل پر حاوی نہ ہو جائے۔ آئی سی سی کا حتمی فیصلہ ٹورنامنٹ کے شیڈول پر براہ راست اثر انداز ہو گا۔
UrduLead UrduLead