
پنجاب حکومت نے سرکاری نرسنگ کالجز میں بی ایس نرسنگ (جنرک) پروگرام کے لیے نئی داخلہ پالیسی جاری کر دی ہے، جس کے تحت اب طالبات کو مفت تعلیم کی سہولت ختم کر دی گئی ہے اور وہ ہزاروں روپے فیس ادا کر کے تعلیم حاصل کریں گی۔
اس کے علاوہ، طالبات کا ماہانہ وظیفہ (جو پہلے تقریباً 31,600 روپے تھا) بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ہاسٹلز میں رہائش کے واجبات بھی خود ادا کرنے ہوں گے۔
نئی پالیسی کے مطابق، نرسنگ کالجز میں داخلے کے لیے ایف ایس سی (پری میڈیکل) میں کم از کم 50 فیصد نمبرز ضروری ہیں اور پنجاب کا ڈومیسائل لازمی قرار دیا گیا ہے۔
شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال لاہور سے منسلک نرسنگ کالج میں صرف مرد طلباء کو داخلہ دیا جائے گا۔سیٹوں کی تقسیم کے مطابق، سرکاری نرسنگ کالجز میں مارننگ شفٹ کے لیے 3100 اور ایوننگ شفٹ کے لیے 3000 سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔
ٹیچنگ ہسپتالوں سے منسلک نرسنگ کالجز میں دونوں شفٹوں کے لیے 100، 100 جبکہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں سے منسلک کالجز میں 50، 50 سیٹیں رکھی گئی ہیں۔

یہ تبدیلیاں اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں اور ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ غریب اور متوسط طبقے کی طالبات کے لیے نرسنگ کی تعلیم کو مشکل بنا سکتا ہے۔
پہلے یہ پروگرام مفت تھا اور وظیفہ بھی ملتا تھا، جو اب ختم ہونے سے صحت کے شعبے میں نرسز کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مالی استحکام اور معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم طلبہ اور ماہرین نے اس پر تنقید کی ہے کہ یہ کم آمدنی والے خاندانوں کی طالبات کو متاثر کرے گا۔ داخلہ عمل PNAS پورٹل کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
UrduLead UrduLead