
فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے 75 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے بولی کے عمل سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے اور اس فیصلے سے نجکاری کمیشن کو آگاہ کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ارنسٹ منی جمع کرانے کی آخری تاریخ گزر چکی ہے، جبکہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے سیلڈ بڈز 23 دسمبر کو کھولی جائیں گی۔
نجکاری کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ پہلے سے منظور شدہ تین بولی دہندگان نے مقررہ ارنسٹ منی جمع کرا دی ہے اور وہ فیصلہ کن مرحلے میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں، جبکہ فوجی فرٹیلائزر نے مقررہ رقم جمع نہیں کرائی۔
حکام کے مطابق اگرچہ فوجی فرٹیلائزر اس مرحلے پر براہ راست بولی میں شامل نہیں ہو رہی، تاہم کمپنی بعد میں کسی کامیاب کنسورشیم کا حصہ بن سکتی ہے۔ عہدیدار نے وضاحت کی کہ اگر فوجی فرٹیلائزر اس مرحلے پر بولی جمع کرا دیتی تو قواعد کے تحت بعد میں کسی دوسرے کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ شراکت کی اجازت نہ ہوتی۔
نجکاری کمیشن بورڈ نے اس سے قبل چار بولی دہندگان کو پری کوالیفائی کیا تھا، جن میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، ایئر بلیو (پرائیویٹ) لمیٹڈ، لکی سیمنٹ کی قیادت میں کنسورشیم اور عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں کنسورشیم شامل تھے۔
لکی سیمنٹ کے کنسورشیم میں حب پاور ہولڈنگز، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز شامل ہیں، جبکہ عارف حبیب کی قیادت والے کنسورشیم میں فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز شامل ہیں۔ 7 نومبر کو اے کے ڈی گروپ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو بھی عارف حبیب کے کنسورشیم میں شامل کیا گیا تھا۔
پی آئی اے نجکاری کے تحت 75 فیصد حصص فروخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ حکومت کے پاس باقی 25 فیصد حصص برقرار رکھنے یا فروخت کرنے کا اختیار موجود رہے گا۔ نجکاری کا یہ عمل قومی ایئرلائن کی مالی بحالی اور انتظامی اصلاحات کے لیے ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead